انوارالعلوم (جلد 2) — Page 296
۲۹۶ میرے دوستوں کی نسبت آج وہ الفاظ نہیں استعمال کئے جاتے جو پہلے کئے جاتے تھے کیونکہ واقعات کے تغیرسے خیالات بھی بدل جاتے ہیں کیا یہ نہیں کہ ایک وہ دن تھا کہ مولانا سید محمد احسن صاحب کی تعریف میں آپ لوگ رطب اللسان تھے اور پھر وہ دن آیا کہ کسی لکھنے والے نے یہ بھی لکھ دیا کہ حضرت صاحب کای الہام انہی مولوی صاحبان کی نسبت تھا کہ " مولوی ننگے ہو گئے ‘‘ پھر وہی ام المومنین جس کی نسبت حضرت مسیح موعود ؑکے سامنے آپ ایک برا لفظ بھی استعمال نہیں کرسکتے تھے آج اس کی نسبت بری سے بری باتیں منسوب کی جاتی ہیں اور میری نسبت تو مدت سے ایسے خیالات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے کہ مجھے کوئی نیا اعتراض غمگین نہیں کر سکتا۔کیونکہ تعجب اور حيرت انسان کو اسی چیز پر ہوتی ہے جو نئی ہو جس چیز کو دیکھتے اور سنتے برسوں گزر گئے ہیں اس نے حیرت اور تعجب کیا پیدا کرنا ہے۔پس حالات کے تغیر سے خیالات میں تغیر پیدا ہو جاتا ہے اور یہ کوئی ایسی خلاف فطرت بات نہیں کہ اس پر آپ کو تعجب ہو عبد الحکیم اور عباس علی کی نسبت حضرت صاحب نے تعریفی کلمات لکھے پر بعد میں جو کچھ لکھاوہ ی بھی آپ کی کتابوں میں موجود ہے مگر ہم حضرت صاحب پر اعتراض نہیں کر سکتے کہ اپنے دو پہلو کیوں بد لے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ آپ نے دو مختلف تحریریں اس لئے شائع کیں کہ وه دو مختلف حالات کے متعلق تھیں ایسا ہی اب ہے اگر حالات پھر پہلے سے ہو جائیں تو آراءبھی بدل جائیں گی۔اپنی تبلیغ کے متعلق خواجہ صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ دیکھو چوہدری فتح محمد بھی اسی رنگ میں کام کر رہا ہے جس میں میں کرتا تھا۔میرا جواب یہ ہے کہ اگر چوہدری محمدفتح محمد اسی طریق سے کام لیتے ہیں جو خواجہ صاحب کا ہے یعنی سلسلہ کا ذکر نہیں کرتے بلکہ ان کو چھپاتے ہیں تو میں ان کو بھی ویساہی قصور وار خیال کرتا ہوں جیسے خواجہ صاحب کو۔مجھے تو افعال سے بحث ہے نہ کہ انسانوں سے۔جس فعل کو میں برا خیال کرتا ہوں جو کوئی بھی اس فعل کا مرتکب ہو میں اسے خطاکار خیال کروں گا۔لیکن میں اس قدر اور ضرور کہہ دینا چاہتا ہوں کہ چوہدری فتح محمد صاحب کے جو خطوط آتے رہتےہیں ان سے خواجہ صاحب کے خیال کی تردید ہوتی ہے کیونکہ وہ اپنے خطوط میں برابر اس امر کاز کر کرتے رہتے ہیں کہ وہ سلسلہ کی تبلیغ میں کوشاں ہیں اور چوہدری فتح محمد صاحب کا میں ایسی اچھی طرح سے واقف ہوں کہ ان کی نسبت جھوٹ منسوب نہیں کر سکتا۔میں اور وہ ایک جماعت میں پڑھتے رہے ہیں اور بچپن سے ہم ایک دوسرے کے واقف ہیں میں نے اس واقفیت کے عرصہ میں ان کو جھوٹ بولتے ہوئے نہیں دیکھا پس میں کس طرح ان کی تحریروں کو غلط سمجھ لوں اور خصوصاً