انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 288

۲۸۸ اسی طرح دافع البلا ءمیں قادیان کی نسبت لکھتے ہیں کہ یہ خدا کے رسول کاتخت گاہ ہے۔اب میں خواجہ صاحب کے ایک اور اعتراض کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔خواجہ صاحب لکھتے ہیں کہ میاں صاحب کی خلافت ثابت کرنے کے لئے مسیح موعود کو مستقل نبی ثابت کیا جا تا ہے۔اورپھر آپ کو مستقل نبی ثابت کرنے کے لئے آپ کو احمد ثابت کیا جاتا ہے۔اور کہا جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کانام احمدؐ کسی نے نہیں رکھا۔اور یہ ایک غلطی سے دوسری غلطی نکلی ہے۔اور لکھتے ہیں کہ یہ بات مسیح موعود کے بیان کے بھی خلاف ہے۔افسوس کہ خواجہ صاحب نے پھر پورےمطالعہ کے بغیر یہ بات لکھ دی ہے۔حضرت مسیح موعود نے اپنے آپ کو احمد لکھا ہے اور لکھا ہے کہ اصل مصداق اس پیشگوئی کا میں ہی ہوں کیونکہ یہاں صرف احمد کی پیشگوئی ہے۔اور آنحضرت ﷺ احمد ؐ اور محمدؐ دونوں تھے۔چنانچہ آپ ازالہ اوہام میں لکھتے ہیں۔"اور اس آنے والے کا نام جو احمدؐ رکھا گیا ہے۔وہ بھی اس کے مثیل ہونے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ محمد ؐ" جلالی نام ہے اور احمد اجمالی اور احمد اور عیسیٰ اپنے جمالی معنوں کے رو سے ایک ہی ہیں۔اسی کی طرف یہ اشارہ ہے۔وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِن بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُمگر ہمارے نبی ﷺ فقط احمد ہی نہیں بلک محمدؐ بھی ہیں یعنی جامع جلال و جمال ہیں۔لیکن آخری زمانہ میں بر طبق پیشگوئی مجرداحمد جواپنے اندر حقیقت عیسویت رکھتا ہے۔بھیجاگیا‘‘ (ازالہ اوہام حصہ دوم صفحہ ۳۶۳ روحانی خزائن جلد ۲ سے ۴۶۳) اسی طرح اعجاز المسیح میں لکھتے ہیں۔وأشار عیسی بقولہ ’’کَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَہُ‘‘* إلی قومٍ ’’آخَرَینَ مِنْہُمْ‘‘ وإمامہم المسیح۔بل ذکر اسمہ أحمد بالتصریح۔وأشار بہذا المثل الذی جاء فی القرآن المجید۔إلی أن المسیح الموعود لا یظہر إلَّا کنباتٍ لیّنٍ لا کالشیء الغلیظ الشدید۔ثم من عجائب القرآن الکریم أنہ ذکر اسم أحمد حکایتًا عن عیسٰی وذکر اسم محمد حکایتًا عن موسٰی۔لیعلم أن النبی الجلالی أعنی موسی اختار اسمًا یُشابہ شأنہ۔أعنی محمد نالذی ہو اسم الجلال۔وکذالک اختار عیسی اسم أحمد نالذی ہو اسم الجمال بما کان نبیّا جمالیًا وما اعطی لہ شیء من القہر والقتال۔فحاصل الکلام أن کُلًّا منہما أشار إلی مثیلہ التام۔فاحفظ ہذہ النکتۃ فإنہا تُنجیک من الأوہام۔وتکشف عن ساقی الجلال والجمال۔وتُری الحقیقۃ بعد رفع الفدام۔وإذا