انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 289

۲۸۹ قبلتَ ہذا فدخلتَ فی حِفظ اللّٰہ وکلاء ہ من کل دجّال۔ونجوتَ من کل ضلال۔(اعجاز المسیح صفحہ ۱۲۵،۱۲۶،روحانی خزائن جلد ۸اصفحہ ۱۲۷۔۱۲۸) (ترجمہ) اور عیسیٰ نے کَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَہُ میں وَ اٰخَرِیْنَ مِنْهُمْ والی جماعت اور ان کے امام کی طرف اشارہ کیا ہے بلکہ اسمہ احمد کہہ کر صریح طور پر اس امام کا نام بھی بتا دیا ہے۔اور اس مثال میں (یعنی کَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَہُ میں) جو قرآن کریم میں مذکور ہوئی ہے۔حضرت عیسیٰ نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ مسیح موعود کا ظہور نرم و نازک پودے کے مشابہ ہو گاسخت چیز سے مشابہت نہیں رکھتا ہو گا۔پھر منجملہ قرآنی لطائف کے ایک یہ نکتہ ہے کہ احمد کا تو عیسیٰ کی پیشگوئی میں ذکر کیا ہے اور محمد ؐ حضرت موسیٰ کی پیشگوئی میں تاکہ پڑھنے والے کو یہ نکتہ معلوم ہو جائے کہ جلالی نبی یعنی موسیٰ نے ایسا نام پیشگوئی میں اختیار کیا جو اس کے اپنے حال کے موافق تھا۔یعنی محمد جو جلالی نام ہے اوراسی طرح حضرت عیسیٰ نے اسم احمد کو پیشگوئی میں ظاہر کیا جو جمالی نام ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ جمالی نبی تھے اور قہروقتال سے انہیں کچھ حصہ نہیں دیا گیا تھا۔خلاصہ کلام یہ کہ (موسیٰ و عیسیٰ میں سے) ہر ایک نے اپنے مثیل تام کی طرف اشارہ کیا۔اس نکتے کو یاد رکھو کیونکہ یہ تمام اوہام سے نجات دینے والا ہے۔اور جلال اور جمال دونوں کو خوب واضح کرتا ہے۔اور پردہ اٹھا کر اصل حقیقت د یکھادیتا ہے اور جب تم اس کو تسلیم کر لو گے اور اسے مان لو گے تو اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں داخل ہو کر ہرایک دجال سے بچ جاؤ گے اور ہر ایک گمراہی سے نجات پا جاؤ گے“۔ان حوالوں سے آپ کو یہ تو معلوم ہو گیا ہو گا کہ اس پیشگوئی کا مصداق حضرت نے اپنے آپ کو قرار دیا ہے۔اب رہا یہ سوال کہ پھر آپ نے اس آیت کوآ نحضرتﷺ پر کیوں چسپاں کیا ہے تو اس کا یہ جواب ہے کہ جس قدر پیشگوئیاں آپ کی امت کی ترقی کی نسبت ہیں ان کے پہلے مظہر تو آنحضرتﷺ ہی ہیں اگر آپ احمد نہ ہوتے تو مسیح موعود کیو نکراحمد ہو سکتا تھا۔مسیح موعود کو تو جو کچھ ملا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے طفیل ملا ہے۔اگر ایک صفت کی نفی آنحضرتﷺ سے کی جائے تو ساتھ ہی اس کی نفی حضرت مسیح موعود سے ہو جائے گی۔کیونکہ ہر چیز چشمہ میں نہیں وہ گلاس میں کہاں سے آ سکتی ہے۔پس آنحضرت ﷺ احمد تھے اور اس پیشگوئی کے اول مظہروه تھے۔لیکن چونکہ اس میں ایک ایسے رسول کی پیشگوئی ہے جس کا نام احمد ہے۔اور آنحضرت ﷺ کی صفت احمد تھی نام احمد نہ تھا۔اور دوسرے جونشان اس کے بتائے گئے ہیں۔وہ اس زمانہ میں پورے ہوئے ہیں۔اور مسیح موعود پر پورے ہوئے ہیں۔اور آپ کانام احمد تھا اور آپ احمد کے