انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 256

۲۵۶ آپ کو خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں دے دیتا ہے تو اس کے تمام کام خدا تعالیٰ کے کام ہی ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بعض احمق جو اس بات کو نہیں سمجھتے جب ان کاموں میں روک ڈالتے ہیں تو ایسے تباہ ہوتے ہیں کہ ان کا کچھ باقی نہیں رہتا۔اس درجہ کو پہنچنے والے انسان کو ملائکہ کے واسطہ کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔حضرت ابراہیم ؑ کے متعلق ایک واقعہ لکھا ہے کہ حضرت جبرائیل ؑ انکے پاس آئے اور کہا کہ اگر آپ کو کوئی ضرورت ہے تو مجھے کہو۔انہوں نے کہا اگر مجھے ضرورت ہوگی تو میں خدا تعالیٰ کو کہوں گا تمہیں کہنے کی کیا ضرورت ہے۔انہوں نے کہا اچھا پھر آپ خدا سے دعا کریں۔انہوں نے کہا کیا اﷲ تعالیٰ مجھے نہیں دیکھ رہا کہ میں دعا کروں۔وہ جبکہ خود میری ہر ایک بات جانتا اور دیکھتا ہے تو پھر میں کیوں کہوں کہ مجھے فلاں ضرورت ہے آپ اسے پورا کر دیں۔غرض انسان ترقی کرتے کرتے ملکوتی صفات سے بھی آگے بڑھ جاتا ہے اورصفاتِ الٰہیہ کو اپنے اندر پیدا کر لیتا ہے اور اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ایک ہتھیار کی طرح کر دیتا ہے کہ خدا کے ہلائے سے ہلتا اور اس کے چلائے سے چلتا ہے ایسے انسان کا مقابلہ خدا تعالیٰ کا مقابلہ ہوتا ہے اور یہ شخص اپنے ہر کام کو اﷲ تعالیٰ کی ہی رضا پر چھوڑ دیتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جس کی نسبت رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ جو انسان ترقی کر کے خدا تعالیٰ کا مقرب ہو جاتا ہے خدا اس کی آنکھیں اس کے کان اور اس کے ہاتھ پاؤں ہو جاتاہے جو اس کا دشمن ہوتاہے وہ خدا کا دشمن ہوتا ہے اور جو اس کا دوست ہوتا ہے وہ خدا کا دوست ہوتا ہے یہی وہ درجہ ہے جس کے مطابق اﷲ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ سے فرمایا کہ جو تیری طرف توجہ نہیں کرتا وہ میری طرف (اﷲ )توجہ نہیں کرتا کیونکہ تُو تو میری صفات کا مظہر ہے اس لئے تیرا انکار میرا انکار ہے یہ وہ درجہ ہے کہ انسان بالکل خدا تعالیٰ کے قبضہ میں چلا جاتا ہے اس سے بڑھ کر ایک ہی اور درجہ ہے۔ساتواں درجہ : اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ثم اَنْشَاْنٰہُ خَلْقاً اٰخَرَ۔(المؤمنون :۱۵) پھر کیا پوچھتے ہو۔وہ حالت تو بیان ہی نہیں ہو سکتی۔اب بندہ کو ایک اور خلق میں بدل دیا جاتا ہے اور ایک دفعہ پھر اسے اس کی طاقتیں واپس کی جاتی ہیں اور اگر پہلے درجہ میں خدا کے بلائے سے بولتا تھا تو اب اس کو وہ مقام دیا جاتا ہے اور اس کے نفس کے اندر ایسی طہارت پید اہو جاتی ہے کہ جو کچھ یہ کہتا ہے خدا تعالیٰ بھی اسی کے مطابق اپنے احکام جاری کر دیتا ہے۔تو یہ درجہ محبوبیت کا درجہ ہے۔چنانچہ ایسے لوگوں کی بہت باتیں جو وہ اپنے اجتہاد سے کہتے ہیں خدا تعالیٰ ان کو بھی پورا کر دیتا ہے۔اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے۔قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ