انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 255 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 255

۲۵۵ خدا تعالیٰ نے آگے کیا لطیف بات بیان فرمائی۔جنس کو جنس سے محبت ہوتی ہے فرمایا جب یہ لوگ جنت میں پہنچیں گے تو ملائکہ بھاگتے ہوئے ان کے پاس آئیں گے چونکہ یہ لوگ بھی ملکوتی صفات رکھنے والے ہوں گے اس لئے فرشتوں کو ان سے محبت ہونی ضروری تھی پس فرشتے ایسے لوگوں کی طرف دوڑ پڑیں گے اور کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔اس سبب سے کہ تم نے صبر کیا یہاں خدا تعالیٰ نے صاف طور پر ظاہر فرما دیا کہ یہ ملائکہ کے درجہ کے انسان ہوں گے ملائکہ کا درجہ کیا ہی اچھا ہے۔چھٹا درجہ :پھر انسان اس سے بھی ترقی کرتا ہے اور جب اس میں احساس زیادہ پیدا ہو تا جاتا ہے تو وہ اور بلند ہو تا جاتا ہے پھر یہی نہیں کہ وہ اپنے آپ کو بدیوں سے بچاتا ہے بلکہ وہ یہ سمجھنے لگ جاتا ہے کہ میں تو کچھ چیزہی نہیں ہوں۔پس وہ اﷲ کے ہاتھ میں اپنے آپ کو دے دیتا ہے ایسی حالت کے متعلق صوفیاء نے کہا ہے کہ انسان میں صفات الٰہیہ آنی شروع ہو جاتی ہیں۔اس کے لئے قرآن شریف کہتا ہے۔بَلٰی مَنْ اَسْلَمَ وَجْھَہ، لِلّٰہِ وَھُوَ مُحْسِنٌ فَلَہ، اَجْرُہ، عِنْدَ رَبِّہٖ وَلَا خَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلَا ھُمْ یَحْزَنُوْنَ۔(البقرہ:۱۱۳)حضرت ابراہیم ؑ جو کہ خدا تعالیٰ کے نبی تھے انکو یہ درجہ حاصل ہو گیا تھا چنانچہ ان کی نسبت اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے: اِذْ قَالَ لَہ، رَبُّہ، اَسْلِمْ قَالَ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔(البقرہ :۱۳۲)جب اﷲ تعالیٰ نے کہا اَسْلِمْ تو حضرت ابراہیم ؑ نے کہا اَسْلَمْتْ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔پس ایک تو انسان کا وہ درجہ تھا کہ ملائکہ میں تھا۔اس درجہ میں وہ یہ سمجھتا تھا کہ میں بھی کچھ کر سکتا ہوں مجھے حکم دو میں کروں گا۔مگر یہ ایک ایسی حالت ہے کہ انسان کہتا ہے کہ میں کچھ بھی نہیں ہوں جس طرح آپ کی مرضی ہو اسی طرح مجھے چلایئے۔اب جبکہ اس کو خدا چلائے گا تو جو کام اس سے ہوں گے وہ خدا تعالیٰ کے ہوں گے کیونکہ جس کے ہاتھ میں قلم ہوگی اسی کے نام سے چلے گی۔لکھا ہے کہ ایک سپاہی اپنی تلوار کو اس زور سے مارتا تھا کہ گھوڑے کے چاروں پاؤں یک لخت کاٹ دیتا تھا۔بادشاہ کے لڑکے نے جو اس کا یہ کام دیکھا تو اس سے کہا کہ یہ تلوار مجھے دے دیجئے۔اس نے کچھ عذر کیا بادشاہ نے اس سپاہی کو کہہ کر وہ تلوار اس شہزادہ کو دلوادی۔جب اس شہزادہ نے وہ تلوار چلائی تو کچھ بھی اثر نہ ہوا۔اس پر اس سپاہی نے کہا کہ میں اس وجہ سے یہ تلوار نہیں دیتا تھا کہ اس تلوار میں کوئی خاص جوہر تھا بلکہ یہ تو اس لئے گھوڑے کے چاروں پاؤں اڑا دیتی تھی کہ یہ میرے ہاتھ میں تھی۔مجھے اب کوئی اور تلوار دے دی جائے تو اس سے بھی میں کاٹ دوں گا کیونکہ تلوار کی خصو صیت نہیں بلکہ میری ہے۔یہی حال بندہ کا ہوتا ہے جب وہ اپنے