انوارالعلوم (جلد 2) — Page 254
۲۵۴ مَا یُؤْمَرُوْنَ کے ماتحت کام کرتے ہیں اسی طرح یہ انسان بھی خدا تعالیٰ کے سب حکموں کو پورا کرتا ہے اور اس پر کبھی غفلت کی نیند نہیں آسکتی۔اس کی نسبت اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔اَفَمَنْ یَّعْلَمُ اَنَّمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ الْحَقُّ کَمَنْ ھُوَ اَعْمٰیط اِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اُولُو الْاَلْبَابِ۔الَّذِیْنَ یُوْفُوْنَ بِعَھْدِ اللّٰہِ وَلَا یَنْقُضُوْنَ الْمِیْثَاقَ۔وَ الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ مَآ اَمَرَا للّٰہُ بِہٖٓ اَنْ یُّوْصَلَ وَ یَخْشَوْنَ رَبَّھُمْ وَ یَخَافُوْنَ سُوْٓءَ الْحِسَابِ۔وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْہِ رَبِّھِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلوٰۃَ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَۃً وَّیَدْ رَءُ وْنَ بِالْحَسَنَۃِ السَّیِّئَۃَ اُولٰٓئِکَ لَھُمْ عُقْبَی الدَّارِ۔جَنّٰتُ عَدْنٍ یَّدْخُلُوْنَھَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِھِمْ وَ اَزْوَاجِھِمْ وَ ذُرِّیّٰتِھِمْ وَ الْمَلٰٓئِکَۃُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْھِمْ مِّنْ کُلِّ بَابٍ۔سٰلٰمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ۔( الرعد :۲۰ تا ۲۵)اے رسول وہ چیز جو تیرے اوپر اتری حق ہے جو اس بات کو جانتا ہے بھلا وہ کس طرح ایک اس اندھے کی طرح ہو سکتا ہے جو اس کو حق نہیں سمجھتا ہماری باتوں سے اصل فائدہ تو وہی اٹھاتے ہیں جو اولو الالباب ہوتے ہیں یعنی جو عقل و دانائی سے بھر پور ہوتے ہیں۔وہ اﷲ کے عہدوں کو پورا کرتے ہیں ان کو توڑتے نہیں اور انکو خدا تعالیٰ نے جو حکم دئیے ہوتے ہیں بجا لاتے ہیں اور اپنے رب کی رضامندی چاہنے کے لئے صبر کرتے ہیں اور نمازوں کو قائم کرتے ہیں اور خرچ کرتے ہیں اس میں سے جو کہ انہیں دیا گیا ہے پوشیدہ اور ظاہر طورپر۔اور بدیوں کو نیکیوں کے ذریعے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں اور نیکیاں پھیلاتے ہیں۔پس یہی وہ لوگ ہیں جن کو جنت میں عمدہ بدلے دیئے جائیں گے۔اور وہ جنت میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے۔پھر ان کا اتنا بڑا درجہ ہے کہ صرف انہیں کو درجے نہیں دیئے جائیں گے بلکہ ان کے رشتہ دار جنہوں نے تھوڑی نیکیاں کی ہوں گی ان کی وجہ سے ان کے درجے بھی بلند کئے جائیں گے۔اور جہاں یہ ہوں گے وہاں ہی ان کے رشتہ دار بھی پہنچائے جائیں گے۔یہ کیوں اس لئے کہ انہوں نے لوگوں کو نیک بنانے کی کوشش کی اور خدا تعالیٰ کے بندوں کو راہ ہدایت پر لانے میں کوشاں رہے۔اس کے بدلہ میں خدا ان سے صرف یہی سلوک نہیں کرے گا کہ ان کے درجے بلند کردے گا بلکہ ان کے رشتہ داروں کا بھی ان کی وجہ سے بلند مرتبہ کردے گا۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جنت میں جس درجہ میں مَیں ہوں گا اس میں علی ؓ اور فاطمہ ؓ ہوں گے۔تو خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ جس طرح یہ لوگ دنیا میں ہماری مخلوق کی خبر گیری کرتے رہے ہیں ہم اس کے بدلہ میں ان کے رشتہ داروں کو فائدہ پہنچا دیں گے۔