انوارالعلوم (جلد 2) — Page 218
۲۱۸ اعلیٰ خاندان کا معیار : مذکورہ بالا آیہ کریمہ اور حدیث نبی کریم ﷺ میں اعلیٰ خاندان کا معیار اور شریف کہلانے والے خاندانوں کی وجہ بھی بتا دی گئی ہے۔دیکھو سید مسلمانوں میں سب سے زیادہ شریف قوم خیال کی جاتی ہے۔اس کی وجہ صاف ہے کہ وہ اتقی الناس یعنی آنحضرت ﷺ سے تعلق رکھتے ہیں۔ہندوؤں میں برہمنوں کا درجہ کیوں اعلیٰ ہے اور ان کا خاندان کیوں معزز سمجھا جاتا ہے اس لئے کہ وہ دوسروں کو دین سکھاتے اور خود دین پر عمل کرنے والے تھے اور یہ اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقٰکُمْ کے ماتحت ہی اعلیٰ اور معزز خاندان ہوا۔پھر دنیا میں جو لوگ ادنیٰ درجہ کے کام کرتے ہیں ان کو رذیل سمجھا جاتا ہے کیونکہ ان کا تعلق ادنیٰ چیزوں سے ہوتا ہے جن کا اثر ان کے اخلاق اور عادات پر بھی پڑتا ہے اسی کے مطابق لوگوں نے قبیلوں اور خاندانوں کو اعلیٰ اور ادنیٰ قرار دیا ہے۔مثلاً موچی ایک قوم ہے۔ایک زمانہ تھا کہ اس پیشہ کو کوئی اہمیت حاصل نہ تھی اور ان کا تعلق اپنے پیشہ کے باعث ادنیٰ لوگوں سے ہوتا تھا بڑے لوگ خود ان کی دکانوں پر نہ جاتے تھے نہ دنیا کے لحاظ سے یہ قوم بڑے سرمایہ سے کام کرتی تھی بلکہ چھوٹی چھوٹی دکانیں تھیں اس لئے یہ رذیل قوموں میں خیال کئے جانے لگے۔کیونکہ ادنیٰ درجہ کے لوگوں سے ہر وقت کے تعلق کا لازمی نتیجہ تھا کہ ان کے اخلاق پر اثر پڑتا۔اب ولایت کے بوٹ بنانے والے بڑے سرمایوں سے کام کرتے اور شریف سے شریف لوگ ان سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے ان کی حالت بدل گئی ہے اور وہ معزز خیال کئے جاتے ہیں کیونکہ حالات کے تغیر سے ان کے اخلاق میں جن نقائص کاخوف کیا جاتا تھا وہ خوف اب جاتا رہا ہے اسی طرح بعض ایسے پیشے ہیں کہ جو خود بد اثر ڈالنے والے ہیں۔مثلاً موسیقی ہے یہ پیشہ بغیر گندے تعلقات کے خود ہی انسان کے دل پر برا اثر ڈالتا ہے اس لئے اس پیشہ سے تعلق رکھنے والے رذیل خیال کئے جائیں گے۔پس شریف خاندانوں کی بنیاد بھی اصل میں نیکی تقوٰی اور اچھے اخلاق کی بناء پر ہی پڑی ہے۔کوئی بڑی قوم کسی نیک انسان کے تعلق سے بڑی بن گئی۔کوئی کسی بہادر کے تعلق سے کوئی کسی سخی کے سبب سے کوئی کسی فاتح کے سبب سے اگر قوموں کی اصل پر غور کیا جائے تو ان کی شرافت کی بنیاد کسی نہ کسی زمانہ میں ان کے اخلاق حسنہ ہی ہوں گے اور چونکہ تعلقات کا اثر انسان کے اخلاق پر ضرور پڑتا ہے اس لئے شریف اقوام کا بھی لحاظ رکھنا ایک حد تک ضروری ہو جاتا ہے۔اور یہ ضروری بات ہے کہ اچھے اور برے عادات اور اخلاق کے معلوم کرنے کے لئے اقوام کو دیکھا جائے تاکہ بعد میں رنجش پیدا نہ ہو۔اخلاق اسی لئے