انوارالعلوم (جلد 2) — Page 195
۱۹۵ سیاست دوسرا مرجو میں نے بیان کرنا ہے وہ سیاست ہے۔ہماری جماعت کو اس سے بڑا د ھو کہ لگا ہےاور یہ مسئلہ بھی بڑے ابتلاء کا باعث ہواہے اور یہ بات کہ ہمیں سیاست کہ ہمیں کس قدر حصہ لیناچاہئے۔آیا سیاست اچھی ہے یا بری اور اگر بری ہے تو کہاں تک؟ اچھی ہے تو کس حد تک؟ سخت اختلاف کا باعث ہو گئی ہے میں جب اس کمی کو مد نظر رکھ کر حضرت مسیح موعود کی تعلیم پر غور کرتاہوں اور ان لوگوں سے جو آپ کے ساتھ رہنے والے تھے پوچھتا ہوں تو وه یہ اظہار نہیں دے سکتےکہ حضرت صاحب نے ان کو کبھی سیاست کی طرف مائل کیا ہو یا کبھی ان کی توجہ کو اس طرف پھیراہو۔مگر اس صورت میں ایک اعتراض پیدا ہوتا ہے اور یہ اعتراض صرف نو تعلیم یافتہ نوجوانوں کی طرف سے ہی نہیں بلکہ پرانے لوگوں کی طرف سے بھی پڑتا ہے کہ سیاست سے کیوں جماعت احمدیہ کو روکا جاتا ہے؟ ایک نادان اور کم عقل انسان کہہ سکتا ہے کہ چونکہ بہ لغوچیز ہے اس لئے اس سے روکا جاتاہے مگر تاریخ کا مطالعہ کرنے والا اور گزشتہ قوموں کے حالات کا جانے والا کبھی یہ نہیں کہہ سکتاکیونکہ دنیا کی حکومتوں اور سلطنتوں کا مداری سیاست پر ہے۔پھر قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نےسیاست کے کچھ قواعد بیان فرمائے ہیں۔یہ اچھی چیز تھی تب ہی تو قرآن کریم نے اس طرف توجہ فرمائی ورنہ کیوں فرماتا۔اور ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ سٹرائکوں سے نفع حاصل ہو تا ہے اور حقوق مل جاتے ہیں۔پھر یہ بھی کہ جائز ایجیٹیشن کو گورنمنٹ بھی ناپسند نہیں کرتی تو پھر کیا وجہ ہے کہ جماعت احمدیہ کو سیاست سے روکا جاتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیوں روکا ہے۔میرا عقیده فقط یہ نہیں ہے کہ سیاست سے کوئی فائدہ نہیں۔ہاں میرے عقیدہ اور دوسروں کے عقیدہ میں یہ فرق ہے کہ وہ اور فوائد سمجھتے ہیں اور میں اور چونکہ اس کی وجہ سے جماعت میں ابتلاء آنے کا ڈر ہے اس لئے میں اصل بات بتانا چاہتا ہوں اس کا فیصلہ ہو جائے اور اگر اللہ تعالیٰ ہے تو یہ فیصلہ ہمیشہ کے لئے ہو جائے۔قرآن شریف میں فیصلہ کی ایک آسان راہ بتاتا ہے کہ اگر ہم کسی بات کا فیصلہ کرنے لگیں تو ہمیں اس کے فوائد اور اس کے نقصانات پر غور کرنا چاہئے۔