انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 194

۱۹۴ کی سوئی ہمیشہ شمال کی طرف رہتی ہے۔مگر تجربہ نے اس بات کو ثابت کردیا ہے کہ مختلف عرصوں کےبعد اس کی سوئی مغرب کی طرف چلنا شروع ہو جاتی ہے اور ایک حد تک پہنچ کر پھر واپس لوٹنی شروع ہوتی ہے۔غرض علوم میں بھی اتنی تبدیلی ہوتی جاتی ہے کہ آج بھی ہے تو کل کچھ اور ہو جاتاہے۔اس میں شک نہیں کہ انسان کو الله تعالیٰ نے عقل اور فہم دیئے ہیں لیکن ایسی عقل نہیں دی جس کا فیصلہ بھی نہ بدلے۔اس لئے اللہ تعالی ٰنے مسلمانوں کو دعا سکھائی ہے کہ چونکہ انسان ہر بات میں بہت ٹھوکریں کھاتا ہے لہذا چاہئے کہ وہ یہ دعا نہ مانگا کرے کہ یہ چیز ہمیں مل جائے یا یہ کام ہو جائے۔بلکہ یہ دعا کیا کرے کہ الہٰی جو بات آپ کے نزدیک ہمارے لئے مناسب ہے وہ ہو جائے اور جو چیز آپ کے نزدیک ہمارے لئے بہتر ہے وہ مل جائے۔چونکہ اللہ تعالیٰ کو غلطی نہیں لگ سکتی اس لئے وہ جو فیصلہ کرتا ہے وہی درست اور صحیح ہوتا ہے اور یہ ہر ایک انسان کے لئے دنیا کے ہرایک معاملہ میں فیصلہ کرنے کا آسان اور نہایت عمدہ طریق ہے۔ہمارے لئے بھی یہی آسان طریق تھا۔خلافت کا مسئلہ جس کسی کی سمجھ میں نہ آیا تو اسے چاہئے تھاکہ دعائیں کرتا ،استخارہ کرنا شروع کردیتااور خدا تعالی ٰکے حضور کہتا کہ اے میرے اللہ اگر خلافت کا مسئلہ درست ہے تو مجھے سمجھا دیئے۔اور اگر نہیں تو مجھے جو سیدھی راہ ہے وہ دکھائے اور صراط مستقیم سے دور ہونے سے بچا لے مگر افسوس کہ کئی لوگ اس طرف توجہ نہیں کرتے۔میں نے بہت سے دوستوں کو یہ تدبیر بتائی اورانہوں نے اس پر عمل کیا تو انہیں خواب یا الہام کے ذریعہ سے ہدایت ہوگئی ورنہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو کسی اور ذریعہ سے تسلی اور تشفی عطا فرما دی۔اب بھی اگر کوئی شک اور تردّد میں ہے تو ایسا ہی کرے خداتعالی ٰاس کو ضرور ہدایت دے دے گا۔پہلی تقریر میں میں نے ایک بات بیان کی ہے اور چودہ باتیں اور ہیں جو میں نے بیان کرنی ہیں۔ان میں سے چار تو ایسی ہیں کہ جتنا پہلی پر وقت لگا ہے اتناہی ان پر لگایا جائے۔لیکن نہ مجھے اتنی طاقت ہے اور نہ ہی وقت ہے۔پھر ایک نہایت ضروری اور اہم بات ہے جو کل بیان کرنی ہے۔کھانسی سے اللہ کا فضل ہے کہ نسبتاً آرام رہا ہے تاہم میرے سینہ میں درد ہو گیا ہے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ کسی قدر اختصار سے باقی باتیں بیان کر دوں۔اللہ تعالیٰ نے پھر کبھی توفیق دی تو مفصل بیان کر دوں گا۔