انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 126 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 126

۱۲۶ کم ہے۔کیونکہ تجارت کی طرف رغبت کرنے کے لئے بعض زبردست محرک بھی ہوتے ہیں مثلاً اپنے کھانے پینے کا انتظام اور اپنے بیوی بچوں کے معاش کی فکر۔اورلھو میں کوئی حقیقی مجبوری نہیں ہے جو انسان کو دین سے غافل کر دے۔لهو کو انسان بغیر کسی نقصان کے خطرہ کے چھوڑ سکتا ہے لیکن تجارت کو بغیر خطرہ نقصان کے نہیں چھوڑ سکتا۔پس تجارت کا اختیار کرنا نفع کا موجب اور اس کا ترک کرنا نقصان کا باعث ہوتا ہے او رلهو کا اختیار کرنا صرف دل کے بہلانے کے لئے ہوتا ہے نہ کہ کسی نفع کے لئے اور اس کے چھوڑ دینے سے کوئی نقصان نہیں ہیں تجارت لهو کی نسبت لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف کھینچنے کی زیادہ محرک ہے اس لئے اس جگہ تجارت کاذ کرلھو سے پہلے کرنا زیادہ مناسب تھا اور اس کے خلاف مناسب نہ تھا۔اب یہ سوال ہے کہ پھر اس آیت کے آخر میں ہے جو فرمایا ہے کہ قل ما عند الله خير من اللھو و من التجارة تویہاں کیوں لهو کو تجارت سے پہلے بیان کیا کیوں نہ یہاں بھی وہی ترتیب مد نظر رکھی تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں وہ بات نہیں بیان کی گئی جو پہلے حصہ آیت میں بیان کی گئی تھی بلکہ یہاں موضوع کے بدل جانے کی وجہ سے ترتیب میں بھی فرق کرنا ضروری تھا اور اگر ترتیب میں فرق نہ کیا جا تاتو نقص لازم آتا اور وہ اس لئے کہ یہاں یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وه لهو اور تجارت سے بہتر ہے پس یہاں ان دونوں الفاظ کی ترتیب میں یہ نہیں مد نظر رکھا جائے گا کہ دونو میں سے کونسی شئے زیادہ غفلت کا باعث ہے بلکہ یہاں مدنظر رکھا جائے گا کہ ماعندالله کس چیزسے زیادہ بہتر ہے اگر لھوسے زیادہ بہتر ہے تلور کو پہلے رکھا جائے اور تجارت کو بعد میں۔اور یہ بات ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ تجارت ایک حد تک اپنے اندر فوائد بھی رکھتی ہے میں اگر آخرت کے لئے سُکھ کا موجب نہیں تو کم سے کاس دنیا کی زندگی کے لئے تواس کے ذریعہ سے سامانِ راحت مہیا کیا جاسکتا ہے پس لهو جو نہ دنیا کے لئے بہتر ہے نہ دین کے لئےاس موقع پر اس کو پہلے بیان کرنا ضروری تھا تا کہ کلام کی عظمت قائم رہے اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے کوئی شخص کہے کہ فلاں شخص من کیادومن اٹھا سکتا ہے تو اس فقرہ میں من کو دو من سے پہلے بیان کرنا ضروری ہے اور اگر برخلاف اس کے یہ کہے کہ فلاں شخص دومن کیا ایک من بھی اٹھاسکتاہے تو کام مہمل ہو جائے گا اسی طرح اس جگہ اگر یوں بیان کیا جا تا کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ تجارت سے بہتر ہے بلکہ لھو سے بھی تو کلام کی لطافت میں فرق آجاتا کیونکہ جب فضیلت میں مقابلہ ہو تو ضرور ہے کہ پہلے ایسی اشیاء پر فضیلت ظاہر کی جائے جو کم درجہ کی ہیں اور اس کے بعد ان پر جو۔