انوارالعلوم (جلد 2) — Page 127
۱۲۷ درجہ میں زیادہ ہیں اور اگر پہلے بڑے درجہ کی اشیاء پر فضیلت ظاہر کی جائے گی تو انکے بعد چھوٹے درجہ پر فضیلت کا ظاہر کرنا تحصیلِ حاصل ہو گا اور وہ حصہ کلام کا لغو اور بے فائدہ ہو گا پس اس موقعہ پر چونکہ ما عنداللہ کی فضیلت ظاہر کرنی مقصود تھی ضروری تھا کہ پہلے لهو کو بیان کیا جا تاجو تجارت سے ادنیٰ درجہ کی چیز ہے ورنہ کلام کی عظمت زائل ہو جاتی غرض کہ اس آیت نے تو ثابت کر دیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے کلام میں ترتیب کا پورا لحاظ رکھا جاتا ہے اور کوئی لفظ اپنی جگہ سے ہلایا نہیں جاسکتا۔میرا ان دونوں مثالوں کے بیان سے یہ مطلب ہے کہ قرآن کریم کی کسی آیت کی نسبت اپنےخیالات کے مطابق معنے کرنے کے لئے اس کے الفاظ میں تقدیم و تاخیر قرار دینی ایک خطرناک راه ہے اور کسی کا حق نہیں کہ بلا اجازت قرآن کریم اور بغیر تفسیر آنحضرت ﷺکے ایسی جرأت کرے ورنہ امن اٹھ جائے گا اور جو شخص چاہے گا اپنی خواہش کے مطابق آگے پیچھے لفظ کر کے معنے کرلیگا میرا دل تو چاہتا تھا کہ میں جناب کو دکھاؤں کہ جس قدر آیات میں تقدیم و تاخیر فرض کرلی گئی ہے ان میں وہی ترتیب مناسب ہے جو قرآن کریم میں رکھی گئی ہے اور جنہوں نے اس کے خلاف کہا ہے وہ غلطی پر ہیں لیکن قلتِ گنجائش مانع ہے اس لئے میں صرف ان دو مثالوں پر ہی اکتفا کرتا ہوں جن لوگوں کو تقدیم و تاخیر کی طرف توجہ ہوئی ہے اصل میں ان کو ایک دھوکا لگا ہے کہ انہوں نے ترتیب کے لئے پہلے کچھ قوانین اپنے ذہن میں بنائے ہیں کہ ترتیبِ الفاظ فلاں فلاں اصول کی بناء پر ہونی چاہئے لیکن چونکہ انسانی دماغ کمزور ہے وہ بہت سی وجوہات کو ترک کر گئے اگر وہ بجائے خود وجوہات کی ترتیب بنانے کے اللہ تعالی ٰکے کلام پر غور کرتے کہ اس میں کیسی ترتیب مد نظر ہے تو ان کو یہ ٹھوکر نہ لگتی آیت انی متوفیک و رافعک الی میں بھی یہی غلطی لگی ہے اور اس کا باعث یہی ہے کہ بجائے قرآن کریم کے ماتحت اپنے خیالات کرنے کے قرآن کریم کو اپنے خیالات کے ماتحت کیا گیا اور یہ عقیدہ جماکر کہ حضرت مسیحؑ زندہ ہیں قرآن کریم پر غور کیا پھر جہاں مشکل پڑی وہاں تقدیم و تاخیر کے مسئلہ کے پیچھے پناہ لے لی لیکن حق یہی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا رفع ان کی وفات کے بعد ہوا جیسا کہ کل مؤمنوں اور نبیوں کا ہو تا ہے اوراسی رفع کے حصول کے لئے مسلمانوں کو دعا سکھائی گئی ہے کہ اللهم اغفرلی و ارحمني واهدني وارزقنی وارفعنی واجبرنی اور احادیث سےمؤ منوں کارفع ثابت ہے جیسا کہ حضرت عمر ؓسے روایت ہے کہ یقول الله من تواضع لی ھکذا رفعتہ ھکذا ا(مسند احمد بن جنبل جلد اول صفحہ ۴۴)