انوارالعلوم (جلد 2) — Page 529
۵۲۹ متعلق جو انعامات بتاتے ہیں۔ان سب سے آپ نے حصہ وافرلیا۔اور وہ سب حالات جو نبیوں کے متعلق قرآن کریم نے بتائے ہیں وہ بھی آپ کے متعلق پورے ہوئے ہیں وہ باتیں جو اللہ تعالی نبیوں کے متعلق فرماتا ہے جب سب کی سب آپ میں پائی جاتی ہیں تو کس طرح ہم آپ کوئی نہ کہیں۔مثال کے طور پر چند آیات قرآنیہ زیل میں درج کی جاتی ہیں۔(1)وَ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ۪ (البقره: ۲۴) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کو بھی یہ معجزه دیا گیا۔(2)اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ بِالْحَقِّ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرً۔(البقرة ۱۲۰) آپ بھی حق لے کر اور بیرونذر ہو کر آئے آپ کو اپنی جماعت کے حق میں بڑی بڑی عظیم الشان بشارتیں دی گئیں۔اور مخالفین کے حق میں بڑی بڑی انذاری پیشگوئیاں کی گئیں۔(۳)تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍۘ-مِنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَ رَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍؕ-وَ اٰتَیْنَا عِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ الْبَیِّنٰتِ وَ اَیَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِؕ (البقرہ:۲۵۴) آپ میں یہ سب خصوصیات موجود ہیں۔(۴)وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗؕ(ال عمران ۸۲) یہ وصیت آنحضرت کی بابت کی گئی تھی۔آپ کے متعلق بھی آنحضرت نے وصیت فرمائی کہ اسےمیری طرف سے سلام کہنا اور فرمایا۔کیف انتم اذا انزل فیكم ابن مريم و امامكم منكم (۵)لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَۚ-وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ(ال عمران:۱۶۵) یہ سارے کام بھی آپ نے کئے۔اور آپ ایسے وقت میں آئے جب کہ قرآن آسمان پر اٹھایا جا چکا تھا۔اور ایمان ثریا پر جا چکا تھا۔(6)رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ