انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 511 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 511

۵۱۱ آنحضرت ﷺ- کیو نکہ وہ ان کے زمانہ کے نبی ہیں۔پھر ان کے استاد ہیں۔پھر رشتہ دار ہیں۔پھران کے لئے بطور ایک نشان کے بھی ہیں۔اور الیاس نبی کی دوبارہ آمد کے مظہرہیں۔پس آنحضرت اﷺحضرت مسیح ناصری سے اولی الناس ہو ہی نہیں سکتے۔اب ایک ہی صورت ہے۔اور وہ یہ کہ اس حدیث کو آنے والے مسیح پر چسپان کیا جائے۔جس پر یہ بالکل چسپان ہو جاتی ہے۔اول اس طرح سے کہ آنے والا مسیح آپ ؐکی امت میں سے بھی ہے اور آپ کا شاگرد بھی ہے۔آپؐ ہی کےکام کے لئے آیا ہے۔پس آپؐ کا جو تعلق مسیح موعود سے ہو سکتا ہے وہ کسی اور شخص کا نہیں ہو سکتا۔کیونکہ مسیح موعود آپؐ ہی کا شاگرد آپؐ ہی کا تبيع - آپ ؐہی کا قائم مقام ہے اس لئے کسی اور کو اس سے ایسا تعلق نہیں ہو سکتا۔اور خود حضرت مسیح موعود بھی فرماتے ہیں کہ : دگر استاد رانا مے ندانم کہ خواندم درد بستان محمدؐ دوسرے اس وجہ سے کہ آپ فرماتے ہیں کہ اس کے اور میرے درمیان کوئی اور نبی نہیں۔پس چونکہ اور کوئی نبی درمیان میں نہیں۔اور جو تعلق ایک نبی کو دوسرے نبی سے ہو سکتا ہے ، وہ غیرنبی کو نبی سے نہیں ہو سکتا۔کیونکہ انبیاء علاتی بھائی کی مانند ہیں اس لئے رسول اللہ اﷺنے فرمایا۔انی ا ولى الناس بعيسى ابن مريم شاید کوئی شخص اس جگہ یہ اعتراض کرے کہ حدیث میں تو لم يكن بينن و بینه تب کے الفاظ آتے ہیں۔جن کا یہ مطلب ہے کہ اس کے اور میرے درمیان کی کوئی نہیں ہوا۔جس سےمعلوم ہو تا ہے کہ یہ پچھلا مسیح ہے نہ کہ آئندہ آنے والا۔کیونکہ آئندہ آنے والا مسیح مراد ہو تاتوبجائے ثم يكث کے لاگو کے الفاظ حدیث میں ہونے چاہئیں تھے۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ پیشگوئیوں میں استقبال کے لئے ماضی کے الفاظ کثرت سے پائے جاتے ہیں۔اور قرآن کریم میں اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں کہ لفظوں سے تو یہ پایا جاتاہے کہ ایسا ہو چکا ہے لیکن مراد یہ ہے کہ آئندہ ہو گا۔حضرت مسیح موعود نے اپنی کتب میں اس مضمون پر مفصل بحث کی ہے۔وہاں سے اس کی تفصیل بھی دیکھی جاسکتی ہے۔بلکہ خود حضرت مسیح موعود کے اپنے الہامات میں یہ رنگ پایا جاتا ہے پس گو الفاظ ماضی کے ہیں مگر مراد آئندہ کا زمانہ ہے۔اور اس کا زبردست ثبوت یہ ہے کہ جو حال بتایا گیا ہے وہ آنے والے مسیح کا ہے پس اگر ماضی کے معنی کئے جائیں تو حدیث بالکل لغو ہو جائے گی۔اور اس کا مطلب یہ بن جائے گا کہ پچھلے مسیح اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں گزرا۔پچھلا مسیح خنزیر قتل کرے گا اور صلیب توڑے گاوغیرہ وغیرہ۔اب ان معنوں کے روسے یا تو رسول الله