انوارالعلوم (جلد 2) — Page 512
۵۱۲ ﷺ پریہ اعتراض آتا ہے کہ ذکر تو پچھلے مسیح کا کرتے ہیں۔اور کام اگلے مسیح کا بتاتے ہیں یا پھر یہ ماننا پڑتا ہے کہ مسیح ناصری اب تک زندہ ہے۔او روہی دوبارہ دنیا میں آئے گا۔اور یہ دونوں باتیں نا ممکن ہیں۔پس سوائے اس کے کہ لم یکن کے معنے پیشگوئیوں کے محاورہ کے مطابق استقبال کے کریں اور کوئی چارہ نہیں۔شاید کوئی شخص یہ کہہ دے کہ گو مسیح موعود تو اسی امت میں سے پیدا ہونا تھا لیکن آنحضرتﷺ یہی خیال کرتے تھے کہ پچھلے مسیح نے ہی دوبارہ آنا ہے اس لئے آپ نے اسی خیال کےماتحت آنے والے مسیح کانام نبی رکھ دیا۔لیکن چونکہ آنے والا مسیح اسی امت میں سے آگیا اس لئےنبی نہیں کہلا سکتا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو اس صورت میں آنحضرتﷺ پر اعتراض پڑے گا کہ آپ باوجود اس کے کہ خود آپ پر مسیح کی وفات کی وحی نازل ہوئی تھی اپنی وفات تک مسیح کی زندگی کے قائل رہے اور اس سے تو غیر احمدیوں کو خاص تقویت حاصل ہوگی۔اور دوسرے حضرت مسیح موعود کے ان تمام اقوال کی تکذیب ہوگی۔جن میں حضرت مسیح موعود نے اس امر پر زور دیا ہے کہ آنحضرت اﷺکا بھی یہی مذہب تھا۔کہ حضرت مسیح فوت ہو چکے اور صحابہؓ کا بھی اسی پر اجماع تھا۔کہ حضرت مسیح فوت ہو چکے ہیں۔غرض اس کے سوا کوئی صورت نہیں بنتی کہ اس حدیث کو آنے والے مسیح پرچسپاں کیا جائے اور جب اس پر چسپاں کیا جائے تو ضروراسے نبی بھی قرار دینا پڑتا ہے اور آنحضرت ﷺ کی شہادت سے ثابت ہے کہ وہ نبی ہے پس خدا تعالیٰ کی شہادت اور پراس کے رسول کی شہادت کے ہوتے ہوئے مسیح موعود کو غیر نبی قرار دینا بعیداز انصاف و راستبازی ہے۔(۳) تیسری شہادت مسیح موعود کے نبی ہونے پر انبیائے گزشتہ کی شہادت ہے سب سے پرانی شہادت تو زرتشت نبی کی ہے۔جو ایران کا ایک نبی ہے اور جس کے پیرو پارسی کہلاتےہیں۔اور ہندوستان میں خاص طور پر معزز خیال کئے جاتے ہیں، اور دنیاوی ترقی میں دوسری ہندوستانی قوموں سے ایک خاص امتیاز رکھتے ہیں۔اس نبی نے اپنے بعد تین نبیوں کے آنے کی خبردی تھی۔جن میں سے ایک تو آنحضرت اﷺکی نسبت پیشگوئی کی تھی۔اور آپ کے نشانات بھی بتائے تھے۔اور یہ بھی لکھا تھا۔کہ اس وقت ایران کی حکومت تباہ ہو جائے گی اور اس کا سبب ایرانیوں کی بد کاری اور عیاشی ہو گا۔آپ کے علاوہ ایک دوسرے نبی کی پیش کی تھی جس کی نسبت ہم نہیں کہہ سکتے کہ پہلے گزر گیا ہے یا آئندہ ہونے والا ہے۔لیکن جس تیسرے نبی کی پیشگوئی اس