انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 453

۴۵۳ کر جو درجہ ہے وہ محدث کا ہے میں وہی ہوں گا اور اس درجہ کا نام محدث ہی ہو گا لیکن آپ کو جب معلوم ہوا کہ وہ درجہ نبوت کا درجہ ہے اور جس تعریف کو آپ محدثیت کی تعریف خیال کرتے تھے وہ در حقیقت نبوت کی تعریف تھی تو آپ نے اپنے محدث ؔ۵۵ہونے سے انکار کر دیا۔اور نبی ہونے کا اعلان کیا۔پھر اسی طرح یہ نبی کی تعریفوں کے اختلاف کے سی سبب سے تھا کہ ایک وقت جب آپ اپنے آپ کو نبی خیال نہ کرتے تھے تو اپنے لئے جب نبی کا لفظ الہامات میں دیکھتے تو اس کے یہ معنی کر لیتے کہ ہر محدث ایک رنگ میں جزئی نبی ہوتا ہوگا اس لئے نبی کہا جاتاہے۔اور اسے صوفیوں کی معمولی اصطلاح قرار دیتے تھے اور اس وجہ سے اپنے اس درجہ میں سب پہلے بزرگوں کو شامل خیال کرتے تھے لیکن جب آپ کو معلوم ہوا کہ جو درجہ آپ کو ملا ہے وہ نبوت کا درجہ ہے اور جو کیفیت اپنے درجہ کی آپ بیان کرتے رہے ہیں وہ نبوت کی کیفیت تھی نہ کہ محد ثیت کی۔تو آپ کو مجبوراً اپنے سے پہلے سب محدثوں کو اپنے درجہ سے علیحدہ کہنا پڑا۔اور صاف کہہ دیا کہ وہ میری نبوت میں شریک نہیں۔حالانکہ ۱۹۰۱ء سے پہلے آپ اپنی نبوت پہلے محدثوں کی کی نبوت قرار دیتے تھے جیسا کہ پہلے گذر چکا لیکن۱۹۰۱ ء کے بعد نبی کی حقیقی تعریف کا اللہ تعالیٰ کی طرف سے انکشاف ہونے کے بعد آپ نے صاف لکھ دیا کہ: ’’جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں » (حقیقۃ الوحی - روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۰۶۔۴۰۷) اسی طرح لکھا ہے : ’’اگر دو سرے صلحاء جو مجھ سے پہلے گذر چکے ہیں وہ بھی اسی قدر مکالمه و مخاطبه الہٰیہ اور امورغیبیہ سے حصہ پالیتے تو وہ نبی کہلانے کے مستحق ہو جاتے تو اس صورت میں آنحضرت ﷺ کی پیشگوئی میں ایک رخنہ واقع ہو جا تا۔اس لئے خداتعالی ٰکی مصلحت نے ان بزرگوں کو اس نعمت کوپورے طور پر پانے سے روک دیا جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ ایسا شخص ایک ، ہی ہوگاوہ پیشگوئی پوری ہو جائے“ (حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۰۷)