انوارالعلوم (جلد 2) — Page 454
۴۵۴ غرض کہ جب تک آپ اپنے درجہ کو محدثوں کا درجہ سمجھتے تھے جن الفاظ سے آپ کو یاد کیا جاتا ان میں پہلے بزرگوں کو بھی شامل کر لیتے لیکن جب نبی کی حقیقی تعریف کا علم ہوا توآپ نے جان لیا کہ وہ لوگ میرے مقام تک نہیں پہنچے اور میں محدث نہیں بلکہ نبی ہوں۔اس لئے آپ کو لکھنا پڑا کہ پہلے بزرگ رتبہ نبوت میں میرے شریک نہ تھے۔غرض کہ اپنے دعوے کی تفصیلی کیفیت کے لحاظ سے تو آپ ہمیشہ ایک ہی بیان شائع کرتے رہے ہیں اور وہ یہ ہے کہ مجھے کثرت سے امور غیبیه پر اطلاع دی جاتی ہے جو انذار و تبشیر کا رنگ رکھتے ہیں اور خدا نے میرا نام نبی رکھا ہے اور اس وجہ سے کہہ سکتے ہیں کہ آپ نے کبھی بھی اپنی نبوت سے انکار نہیں کیا بلکہ اپنے دعوے کی تفصیلی کیفیت جو بیان کرتے رہے ہیں اس کے صاف معنی یہ تھے کہ آپ نبی ہیں۔لیکن اس لحاظ سے کہ آپ نبوت کی تعریف ۱۹۰۱ء سے پہلے اور خیال کرتے تھے اورباوجود اپنے اندر شرائط نبوت کے پائے جانے کے لفظ نبی کی تاویل کرتے تھے آپ کےعقیدہ میں ایک تبدیلی پیدا ہوئی ہے اور اگر ایک وقت آپ اپنے آپ کو نبی کہنے سے منع کرتے رہے ہیں تو دوسرے وقت آپ کے نبی ہونے سے انکار کرنے والے کو آپ نےڈانٹ دیا ہے۔پس جہاں جہاں آپ نے اپنے نبی ہونے سے انکار کیا ہے یا نبی معنی محدث ليا ہے۔اس کا مطلب صرف یہی ہے کہ آپ شریعت جدیدہ کے لانے کا براہ راست نبوت کے پانے سے انکار کرتے ہیں کیونکہ اس وقت آپ کے نزدیک نبی کے یہی معنی تھے اور یہی وجہ آپ تحریر فرماتے ہیں کہ : ’’جس جس جگہ میں نے نبوت یا رسالت سے انکار کیا ہے صرف ان معنوں سے کیا ہے کہ میں مستقل طور پر کوئی شریعت لانے والا نہیں ہوں اور نہ میں مستقل طور پر نبی ہوں" ایک غلطی کا ازالہ روحانی خزائن جلد ۱۸،صفحہ ۲۱۰) غرض ۱۹۰۱ء سے پہلے آپ اگر اپنے نبی ہونے کے منکر تھے تو صرف اس لئے کہ اس وقت تک انبیاء کی احتیاط سے کام لے کر آپ عام عقیدہ کے مطابق نبی کے لئے صاحب شریعت ہونا یا براہ راست نبوت پانے والا ہونا شرط خیال کرتے تھے (جیسا کہ اوپر حوالہ نقل ہو چکا ہے) اور اس وجہ سے آپ کے انکار کے صرف یہی معنی کئے جا سکتے ہیں جو آپ نے خود کر دیئے ہیں کہ آپ نے جب انکار کیا در حقیقت شریعت جديده لانے یا براہ راست