انوارالعلوم (جلد 2) — Page 391
۳۹۔دعوی ٰمیں کوئی فرق نہ ثابت ہوا تو وہ الہامات کی بناء پر ہے اور الہامات میں تبدیلی نہیں ہوئی اور جب سے آپ کو الہامات ہونے شروع ہوئے آخر وقت تک ان میں سے کسی پچھلے نام کو منسوخ کر کے نیا نہیں بتایا گیا کہ ہم کہیں کہ تیئس سال کی میعاد پوری نہیں ہوئی۔٢- دوسرا جواب اس بات کا یہ ہے کہ آپ نے قرآن کریم پر کافی غور نہ کرنے کی وجہ سے یہ دھوکا کھایا ہے قرآن کریم کے الفاظ ہیں لو تقول علينا بعض الأقاويل (الاقه : ۴۵) اور لو تقول کے معنی کسی لغت میں بھی یہ نہیں کہ لوتذبایعنی اگرنبوت کا دعویٰ کرتا بلکہ الفاظ قرآن کے معنی یہ ہیں کہ اگر ہم پر بعض باتیں جھوٹ بنا کر لوگوں کو سناتا کیونکہ تقول قول سے باب تفعل کاصیغہ ماضی ہے اور قول کے معنی بیان کرنے اور کہنے کے ہیں اور باب تفعل کا ایک خاصہ یہ ہے کہ وہ تکلّف اور بناوٹ کے معنی دیتا ہے پس تقول کے معنی اپنی طرف سے کوئی بات بنا کر کہہ دینے کےہیں اور تقول على أحډ کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اپنی طرف سے ایک بات بنا کر کسی دوسرے شخص کی طرف منسوب کرکے سنادینی۔پس تو لو تقول علينا بعض الأقاويل کے یہ معنی ہوئے کہ اگر یہ شخص بعض باتیں اپنی طرف سے بنا کر ہماری طرف منسوب ہو کر تا۔اور لوگوں کو سنا تاکہ خدا تعالیٰ نے اس طرح کا ہے (تو ہم اس کو ہلاک کردیتے) اب آپ غور فرمائیں کہ اس آیت کے کون سے لفظ سے یہ بات نکلتی ہے کہ صرف جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہلاک ہو تا ہے اگر جھوٹی نبوت کا دعوی ٰکرنے والا مراد ہو نا۔تولوتذبا ہو تا۔یعنی اگر یہ شخص جھوٹا نبی بن جا تا۔مگر قرآن کریم میں لوتقول ہے۔پس معلوم ہوا کہ اللہ تعالی نے جھوٹے نبی کے لئے ہی یہ سزا مقرر نہیں فرمائی کہ وہ ہلاک کیا جا تا ہے بلکہ خواہ کوئی شخص صرف الہام کا دعوی ٰکرتا ہو اور مدّعی مأموریت ہو تب بھی وہ ہلاک کیا جاتاہے جبکہ یہ بات ثابت ہو گئی تو آپ کا اعتراض دور ہو گیا۔کیونکہ حضرت مسیح موعودؑ نے الہام کادعویٰ ۱۸۸۰ء میں شائع کیا ہے۔اور اس کے بعد آپ اٹھائیس سال تک زندہ رہے بلکہ زبانی طور پر تو اس سے بھی پہلے اپنے الہام شائع کر رہے تھے۔اور تقریباًٍ چالیس سال متواتر اپنے الہامات کی اشاعت کرتے رہے اور اللہ تعالی نے آپ کو کامیاب و با مراد کیا۔پس آپ پر لوتقول والی آیت کیونکر حجت ہو سکتی ہے یہ تو حضرت مسیح موعودؑ کی تائید میں دلیل ہے۔ہاں اگر قرآن کریم میں لوتذبا ہوتا یعنی اگر کوئی جھوٹا دعوی ٰنبوت کا کرے تو اس کو ہلاک کر دیا جاتا ہے تب اس بناء پر بیشک حضرت صاحب پر اعتراض ہو سکتا تھا کہ ابتدائے زمانہ میں تو آپ نے دعوی ٰنبوت نہ کیا تھا۔اس لئے آپ کی زندگی کا