انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 360

آپ نے تریاق القلوب میں لکھا تھا کہ مسیح سے میں صرف جز کی فضیلت رکھتا ہوں اور بعد میں فرمایا کہ میں تمام شان میں اس سے بڑھ کر ہوں۔جو لوگ کہتے ہیں کہ تریاق القلوب کے حوالہ کو منسوخ نہیں کیا گیا وہ ایک دفعہ سائل کےسوال کو پڑھ لیں کیونکہ جواب مسائل کے سوال کے مطابق ہوتا ہے۔سائل نے حضرت مسیح موعودؑسے یہ سوال کیا ہے کہ آپ نے تریاق القلوب میں کچھ اور لکھا ہے اور ریویو مین کچھ اور پس اگران دونوں کتب میں کوئی اختلاف نہ تھاتو حضرت مسیح موعودؑ بھی تناقض کے اعتراض کو قبول کر کےجواب نہ دینے اور جبکہ اس اعتراض کو آپ نے قبول کیا ہے اور اس کا جواب دیا ہے تو کسی کاحق نہیں کہ کہے کہ آپ کا عقیدہ صرف براہین کے وقت اور تھا۔ایسا کہنا مسیح موعودؑکی ہتک ہے کیونکہ یہ داناؤں کا کام نہیں کہ سوال کچھ اور کیا جائے اور جواب کچھ اور دیا جائے۔سوال کرنے والا تو کہتا ہے کہ آپ تریاق القلوب میں کچھ اور لکھتے ہیں او ر ریویو میں کچھ اور پھر کس طرح ممکن ہے کہ حضرت مسیح موعودؑاس کے جواب میں براہین کے زمانہ کے خیالات کا ازالہ شروع کردیں۔وہ شخص جو کل دنیا کی ہدایت کے لئے آیا تھا اس کی نسبت ایسی لغو بات کا منسوب کرنا کیسا ظلم ہے وہ جو دنیا کو عقل سکھانے کے لئے آیا۔وہ جو علوم روحانی کے خزانے لٹانے آیا۔وہ جو دانائی کی کان تھا اور جاہلوں کو دانا بنانے والا تھا یا اس کی نسبت یہ خیال کیا جاسکتاہے کہ ایک شخص اس سے پوچھتا ہے کہ آپ تریاق القلوب میں کچھ اور لکھتے ہیں اور ریویو میں کچھ اور۔تو وہ یہ جواب دیا ہے کہ ہاں براہین کے زمانہ میں میرا یہ خیال تھابعد میں نہ رہا۔اس جواب کو پڑھ کر ایک بچہ بھی کہے گا کہ آپ سے تو تریاق القلوب اور ریویو کے اختلاف کی نسبت سوال کیا تھا آپ بر اہین کے زمانہ یا کسی اور پچھلے زمانہ کا ذکر کرنے لگے۔کیا اگر کسی صحیح الدماغ انسان سے یہ سوال کیا جائے کہ پرسوں آپ نے فلاں بات یوں بیان فرمائی تھی اور کل اس کے خلاف بیان فرمائی یہ کیا بات ہے تو وہ اس کو یہ جواب دے کہ ہاں پچھلے سال میرا یہی خیال تھا لیکن بعد میں بدل گیا۔کیا وہ یہ نہ پائے گا کہ میں کل اور پرسوں کے متعلق سوال کرتا ہوں آپ پچھلے سال کا ذکر کرتے ہیں اور کیا ایساجواب دینے والا عقلمند کہلا سکتا ہے؟ پس اس کلام سے بچو جس سے تم مسیح موعود ؑپر نعوزذباللہ بے وقوفی کا الزام لگاتے ہو مسیح موعودؑ خدائے تعالیٰ کا چنا ہوا تھا اور اس کا بر گزیدہ تھا اس کی باتیں دانائی سے پُر ہوتی تھیں۔پس اس کا جواب سوال کے خلاف نہیں ہو سکتا۔اور جبکہ تریاق القلوب اور ریویو کے مضامین میں صریح اختلاف ہے تو اس کا جواب کسی پہلے وقت کی طرف کیونکر منسوب ہو سکتا ہے غرض کہ یہ۔