انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 359

انوار العلوم جلد - ۲ ۳۵۹ ہے اصلی نبوت نہیں۔پس اس تغیر عقیدہ سے یہ بھی ظاہر ہے کہ اب آپ نے اپنی نبوت کو ایک اور قسم کی نبوت قرار دیا ہے کیونکہ تریاق القلوب میں آپ باوجود محد ثیت کی نبوت کے دعویٰ ہونے کے جو ۱۸۹۱ء سے چلا آتا تھا اپنے آپ کو غیرنبی قرار دیتے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محدث یا جزئی نبی در حقیقت نبی نہیں ہو تا تبھی تو آپ فرماتے ہیں کہ غیر نبی نبی سے افضل کیونکر ہو سکتا ہے؟ لیکن دافع البلاء میں اپنے آپ کو مسیح سے افضل قرار دیتے ہیں جس سے صاف ثابت ہے کہ اب آپ اپنے آپ کو نبی قرار دیتے ہیں کیونکہ آپ خود یہ قاعده بتا چکے ہیں کہ غیرنبی کو نبی پر فضیلت نہیں اور اگر کسی کو فضیلت ہے تو ثابت ہوا کہ وہ ضرورنبی ہے اگر وہ نبی نہ ہوتا تو حضرت مسیح موعود کے ظاہر کردہ عقیدہ کے مطابق نبی پر فضیلت نہ پاسکتا۔پس افضلیت کا مسئلہ خود نبوت کے مسئلہ کو حل کردیتا ہے۔اس جگہ اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ جبکہ حضرت مسیح موعود ؑنے تریاق القلوب کے حوالہ کو غلط قرار دے دیا ہے تو معلوم ہوا کہ آپ نے اس مسئلہ کو بھی غلط قرار دے دیا ہے کہ غیرنبی نبی سے افضل نہیں ہوسکتا۔پس کیوں نہ خیال کر لیا جائے کہ پہلے حضرت مسیح موعودؑ کا خیال تھا کہ غیر نبی نبی سے افضل نہیں ہو سکتا۔لیکن بعد میں آپ کا یہ خیال بدل گیا اور آپ نے معلوم کیا کہ غیر نبی بھی نبی سے افضل ہو سکتا ہے اس لئے اپنے آپ کو باوجود غیرنبی ہونے کے سب سے افضل قرار دیا لیکن یاد رہے کہ یہ شبہ بھی قلت تدبر کا نتیجہ ہو گا کیونکہ حضرت مسیح موعودؑ نے حقیقتۃ الوحی میں جہاں تریاق القلوب کے اس عقیدہ کو منسوخ فرمایا ہے کہ میں مسیح سے ہر شان میں افضل نہیں وہاں اس عقیدہ کو کہ غیر نبی نبی سے افضل نہیں ہوتا منسوخ نہیں فرمایا۔اور معترض کے جواب میں یہ نہیں فرمایا کہ چونکہ بعد میں مجھے اس قاعد ہیں کہ غیر نبی نبی سے افضل نہیں ہو سکتا غلطی معلوم ہوئی اور ثابت ہو گیا کہ ایسا ہو سکتا ہے اس لئے میں نے مسیح سے اپنے آپ کو افضل لکھ دیا بلکہ اس کی بجائے فرماتے ہیں کہ \" مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا مگر اس طرح کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی“۔اس حوالہ سے صاف معلوم ہو تا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے اپنے آپ کو مسیح سے افضل اس لئے نہیں قرار دیا کہ آپ کو معلوم ہو گیا تھا کہ غیر نبی نبی سے افضل ہو سکتا ہے بلکہ اس لئے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی وحی نے صریح طور پر نبی کا خطاب دیا اور وہ بارش کی طرح آپ پر نازل ہوئی اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ آپ نے تریاق القلوب والے عقیدہ کو بدل دیا کیونکہ۔