انوارالعلوم (جلد 2) — Page 356
۳۵۶, پرعرض کیا تو آیات قطعیۃ الدلالت سے ثابت ہوا کہ در حقیقت مسیح ابن مريم فوت ہو گیا ہے اور آخری خلیفہ مسیح موعود کے نام پر اسی امت میں سے آئے گا۔اور جیسا کہ جب دن چڑھ جا تا ہے توکوئی تاریکی باقی نہیں رہتی۔اسی طرح صدہانشانوں اور آسمانی شہادتوں اور قرآن شریف کی قطعيۃ الدلالت آیات اور نصوص صریحہ حدیثیہ نے مجھے اس بات کے لئے مجبور کردیا کہ میں اپنے تیئں مسیح موعود مان لوں۔میرے لئے یہ کافی تھا کہ وہ میرے پر خوش ہو مجھے اس بات کی ہرگز تمنانہ تھی۔میں پوشیدگی کے حجر ہ میں تھا اور کوئی مجھے نہیں جانتا تھا اور نہ مجھے یہ خواہش تھی کہ کوئی مجھے شناخت کرے اس نے گوشہ تنہائی سے مجھےجبراً نکالا۔میں نے چاہا کہ میں پوشیده ر ہوں اور پوشیده مروں۔مگر اس نے کہا کہ میں تجھے تمام دنیا میں عزت کے ساتھ شہرت دوں گا۔پس یہ اس خدا سے پوچھو کہ ایسا تو نے کیوں کیا؟ میرا اس میں کیا قصور ہے ؟اسی طرح اوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔وہ نبی ہے اور خدائے بزرگ مقربین میں سے ہے۔اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہو تاتو میں اس کو جز ئی فضیلت قرار دیا تھا مگر بعد میں جو خداتعالی ٰکی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا۔اور صریح طور پر نبی کا خطاب دے دیا گیا مگر اس طرح سے کہ ایک پہلوسے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔اور جیسا کہ میں نے نمونہ کے طور پر بعض عبارتیں خدا تعالیٰ کی وحی کی اس رسالے میں بھی لکھی ہیں ان سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مسیح ابن مریم کے مقام پر خدا تعالیٰ میری نسبت کیا فرماتا ہے۔\" (حقیقۃ الوحی - روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۵۲ تا ۱۵۴ اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود سے سوال کیا گیاہے کہ آپ نے تریاق القلوب میں کچھ اور لکھا ہے اور ریویو میں کچھ اور لکھا ہے اور ان دونوں کتابوں میں مندرجہ ذیل اختلاف ہے: (1) تریاق القلوب میں لکھا ہے کہ میں مسیح سے افضل نہیں۔ہاں مجھے اس پر جزئی فضیلت دی گئی ہے اور جزئی فضیلت غیرنبی کو نبی پر ہو سکتی ہے۔(۲) ریویو میں لکھا ہے کہ خدا نے اس امت کے مسیح کو پہلے مسیح پر اپنی تمام شان میں بڑھایا ہے۔یہ سوال جیسا ظاہر ہے اسے ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے تعصب سے کام نہ لیا جائے تو ان دونوں اقوال میں ضرور اختلاف پایا جاتا ہے۔ایک جگہ آپ لکھتے ہیں کہ میں مسیح سے افضل نہیں بلکہ مجھے جزئی فضیلت دی گئی ہے جو غیرنبی کو نبی پر ہو سکتی ہے اور دوسری جگہ تحریر فرماتے ہیں کہ