انوارالعلوم (جلد 2) — Page 355
۳۵۵ حقيقۃالنّبوّة(حصہ اول) ہے لکھا ہے: اس جگہ کسی کو یہ وہم نہ گزرے کہ میں نے اس تقریر میں اپنے نفس کو حضرت مسیح پرفضیلت دی ہے کیونکہ یہ ایک جز ئی فضیلت ہے جو غیرنبی کو نبی پر ہو سکتی ہے پھر ریویو جلد اول نمبر ۶ صفحہ ۲۵۷ میں مذکور ہے خدا نے اس امت میں سے مسیح موعود بھیجا تو اس پہلے مسیح سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہے۔پھر ریویو جلد ۱ نمبر ۴۷۸میں لکھاہے مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر مسیح ابن مریم میرے زمانہ میں ہو تاتو وہ کام جو میں کر سکتا ہوں وہ ہرگز نہ کر سکتا۔اور وہ نشان جو مجھ سے ظاہر ہو رہے ہیں وہ ہرگزدکھلانہ سکتا – خلاصہ اعتراض یہ کہ ان دونوں عبارتوں میں تناقص ہے۔الجواب۔یاد رہے کہ اس بات کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ مجھے ان باتوں سے نہ کوئی خوشی ہے نہ کچھ غرض کہ میں مسیح موعود کہلاؤں یا مسیح ابن مریم سے اپنے تئیں بہتر ٹھہراؤں۔خدا نے میرے ضمیرکی اپنی اس پاک وحی میں آپ ہی خبردی ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے ل أجرد نفسی من ضروب الخطاب یعنی ان کو کہہ دے کہ میرا تو یہ حال ہے کہ میں کسی خطاب کو اپنے لئے نہیں چاہتا یعنی میرا مقصد اور میری مرادان خیالات سے برتر ہے اور کوئی خطاب دیا یہ خدا کا فعل ہے میرااس میں دخل نہیں ہے۔رہی یہ بات کہ ایسا کیوں لکھا گیا اور کلام میں یہ تناقض کیوں پیدا ہو گیا؟ سواس بات کو توجہ کر کے سمجھ لو کہ یہ اسی قسم کا تناقض ہے کہ جیسے براہین احمدیہ میں میں نے یہ لکھا تھاکہ مسیح ابن مریم آسمان سے نازل ہو گا مگر بعد میں یہ لکھا کہ آنے والا مسیح میں ہی ہوں اس تناقض کابھی یہی سبب تھا کہ اگر چہ خداتعالی ٰنے براہین احمدیہ میں میرا نام عیسیٰ رکھا اور یہ بھی مجھے فرمایا کہ تیرے آنے کی خبر خدا اور رسول نے دی تھی مگر چونکہ ایک گروہ مسلمانوں کا اس اعتقاد پر جماہؤا تھااور میرا بھی یہی اعتقاد تھا کہ حضرت عیسیٰ آسمان پر سے نازل ہوں گے اس لئے میں نے خد اکی وحی کوظاہر پر حمل کرنا نہ چاہا بلکہ اس وحی کی تاویل کی اور اپنا اعتقاد وہی رکھاجو عام مسلمانوں کا تھا اور اسی کو براہین احمدیہ میں شائع کیا لیکن بعد اس کے اس بارہ میں بارش کی طرح وحی الہٰی نازل ہوئی کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا تھا تُوہی ہے اور ساتھ اس کے صد ہانشان ظہور میں آئے اور زمین و آسمان دونوں میری تصدیق کے لئے کھڑے ہو گئے اور خدا کے چمکتے ہوئے نشان میرے پر جبر کر کے مجھے اس طرف لے آئے کہ آخری زمانہ میں میں آنے والا میں ہی ہوں۔ورنہ میرا اعتقار تو وہی تھاجو میں نے براہین احمدیہ میں لکھ رہا تھا۔اور پھر میں نے اس پر کفایت نہ کر کے اس وحی کو قرآن شریف