انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 319

۳۱۹ کہنے لگے۔اللّٰہُ اَکْبَر خدا کے رسول کی بات کیا سچی ثابت ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے یہی چاہا کہ طلحہ میری بیعت کے بغیر جنت میں نہ جائے۔(آپ عشرہ مبشرہ میں سے تھے)‘‘ (ب) وَذکر کردہ شد۔عائشہ را یک بار روز جمل۔گفت مردم روز جمل میگویند۔گفتند اری گفت من دوست داشتم کہ مے نشستم۔چنانکہ بنشست غیر من کہ ایں احب ست بسوی من ازیں کہ می زائید م از رسول خدا صلعم دہ کس کہ ہمہ ایشاںمانند عبدالرحمن بن الحارث بن ہشام می بودند۱۲(ححج الکرامہ فی آثار القیامہ صفحہ ۱۶۷) ترجمہ: اور حضرت عائشہؓ کے پاس ایک دفعہ واقعہ جمل مذکور ہوا تو کہنے لگیں کیا لوگ واقعہ جمل کا ذکر کرتے ہیں؟ کسی ایک نے کہا جی اسی کا ذکر کرتے ہیں۔کہنے لگیں کہ کاش! جس طرح اور لوگ اس روز بیٹھے رہے میں بھی بیٹھی رہتی۔اس بات کی تمنا مجھے اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہے کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دس بچے جنتی۔جن میں سے ہر ایک بچہ عبدالرحمن بن حارث بن ہشام جیسا ہوتا۔(ج) نیز طلحہ و زبیر از عشرۃ مبشرۃ بالجنۃ اندوبشارت آنحضرت صلعم حق ست۔با آنکہ ایشاں رجوع کردند از خروج و توبہ نمودند(ححج الکرامہ صفحہ ۱۷۱) ترجمہ: اور طلحہ اور زبیر عشرہ مبشرہ میں سے بھی ہیں جن کی بابت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دی ہوئی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت کا سچا ہونا یقینی ہے پھر یہی نہیں بلکہ اُنہوں نے خروج سے رجوع اور توبہ کر لی۔خواجہ صاحب! آپ نے حضرت صاحب کا ایک الہام لکھا ہے۔مسلمانوں کے دو فریق ہیں۔خدا ایک کے ساتھ ہوا یہ سب پھوٹ کا نتیجہ۔یہ کب ہوا تھا اور کہاں لکھا ہے۔جب الہاموں کی نقل میں احتیاط سے کام نہیں لیتے تو دوسری باتوں میں آپ نے کیا احتیاط کرنی ہے۔کلامِ الٰہی کے نقل کرنے میں تو انسان کو حد درجہ کا محتاط ہونا چاہیے اور اپنی طرف سے الفاظ بدل دینے سے ڈرنا چاہیے۔اس ٹریکٹ میں خواجہ صاحب نے ایک اور بات پر بھی زور دیا ہے کہ یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ مرشد سے عقیدہ میں خلاف ہو۔اور پھر اس کو چھپائیں یہ تو نفاق ہے۔بیشک ایک مرشد سے عقیدہ میں اختلاف رکھنا اور اسے چھپانا نفاق ہے لیکن ایک شخص کی بیعت کرنے سے پہلے اُس پر ظاہر کر