انوارالعلوم (جلد 2) — Page 284
۲۸۴ دسمبر میں لاہور میں کی اس پر خاص زور دیا گیا تھا اور ان کے لیکچر کایہ ایک خاص نکتہ تھا جسے بہت پسندکیا گیا اور جس سےحقیقۃ الوحی کے مذکورہ بالا حوالہ کی وہ اہمیت جاتی رہتی ہے جو حضرت مسیح موعودکونبی قرار دینے والے اسے دینا چاہتے ہیں۔مگر مجھے تعجب اور سخت تعجب ہے ان لوگوں پر جو حضرت صاحب کے ان الفاظ سے کہ أوائل میں میرا یہی عقیدہ تھا یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ یہ عقیده و عویٰ مسیحیت سے پہلے کا ہے کیونکہ اگر سوال کرنے والا اپنے سوال میں جن دونوں مضمونوں میں تنا قض ظاہر کرتا ہے ان کا حوالہ نہ دے دیتاتو بیشک ایک شخص کہہ سکتا تھا کہ اوائل کے مذہب سے مراددعویٰ مسیحیت سے پہلے کا زمانہ ہے نہ کہ دعویٰ مسیحیت کے بعد کا زمانہ۔لیکن جب معترض تریاق القلوب کا حوالہ دیا ہے اور کہتا ہے کہ تریاق القلوب میں آپ نے لکھا ہے کہ میں چونکہ امتی ہوں اور حضرت مسیح نبی۔اس پر مجھے صرف جزوی فضیلت ہو سکتی ہے اور بعد میں رسالہ ریویو آف ریلیجز میں اس کے خلاف لکھا ہے (جس کے ایڈیٹراس کے ایڈیٹر خود مولوی محمد علی صاحب تھے اور حضرت مسیح موعود ؑفرماتے ہیں کہ ان دونوں حوالوں میں تناقض نہیں بلکہ تریاق القلوب کے وقت میرا اپنا اجتہاد تھا اور بعد میں خداتعالی ٰنے الہام سے مجھے اس عقیدہ سے پھیر دیا تو اب اوائل کے معنی یہ کرنے کہ اس سے مراد دعویٰ مسیحیت سے پہلے کا زمانہ ہے اور اس طرح تریاق القلوب کے ان حوالوں سے فائدہ اٹھانا کس قسم کی دیانت اور امانت ہے اور کیا مؤمنانہ شان ایسی بات کی مقتضی ہے کہ انسان ایسے عظیم الشأن مسائل پر قلم اٹھاتے ہوئے صرف ایک فقرہ کو دیکھ کر اس پر رائے زنی کرنی شروع کردے۔اگر اوائل کے معنی زمانہ مسیحیت سے پہلے کا زمانہ کرنے والے لوگ سائل کے سوال کو دیکھ لیتے کہ وہ کن دو تحریروں میں تناقض ظاہر کرتا ہے تو ان کو یہ غلطی نہ لگتی۔اور اس کے لئے کسی دوسری کتاب یا کسی لمبی تحقیقات کی ضرورت نہ تھی بلکہ صرف ایک صفحہ پہلے نظرمارنے کی ضرورت تھی لیکن افسوس کہ جس احتیاط کی طرف دوسروں کو بلایا جاتا ہے اس پر خود عمل نہیں کیا جا تا۔ہم نے سوال اور جواب دونوں اوپرنقل کردیئے ہیں اور ان کو پڑھ کر ہر ایک صحیح الدماغ انسان سمجھ سکتا ہے کہ مسیح موعود نے تسلیم کیا ہے کہ تریاق القلوب میں آپ نے نبوت کے متعلق اور لکھا ہے اور ریویو آف ریلیجز میں اس کے بعد اور خیال ظاہر فرمایا ہے لیکن اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اسے تناقض نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ اختلاف ایسا ہی ہے جیسا کہ میں نے براہین احمدیہ میں ظاہر کیا تھا کہ مسیح زندہ ہے اور بعد میں ظاہر کیا کہ نہیں وہ فوت ہوگیا ہے اور تریاق القلوب کے اس حوالہ اور