انوارالعلوم (جلد 2) — Page 273
۲۳۷ مرزا صاحب مستقل نبی ہونے چاہئیں۔بات یہ ہے کہ میاں صاحب کی خلافت سے انکار کرنےوالے تب ہی فاسق بن سکتے ہیں۔جب میاں صاحب کو کسی مستقل نبی کا خلیفہ قرار دیا جائے اور وہ ہو نہیں سکتا جب تک ختم نبوت سے انکار کرکے حضرت مرزا صاحب کو مستقل نبی نہ بنایا جاوے‘‘ صفحہ۶۵) اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ جس احتیاط کی خواجہ صاحب دوسروں کو تاکید کر رہےتھے۔اس پر خود عامل نہیں ہوئے۔اور ہمارے سب اعتقادات کی بنیاد صرف خود غرضی پر رکھ دی۔گویا ان کے خیال میں جس قدر مسائل میں ہمیں ان سے اختلاف ہے اس کی اصل وجہ اپنی خلافت کو ثابت کرنا ہے اور ہمارے دل میں اس قدر بھی ایمان نہیں کہ خدا تعالی ٰکے بھیجے ہوئے دین کو بھی اپنی خود غرضیوں کی لپیٹ سے باہر رکھ سکیں جو کہ حد درجہ کی شقاوت پر دلالت کرتا ہے مگر مجھے اس بات کے جواب دینے کی ضرورت نہیں۔اس کا جواب وہی دے گا جو دلوں کا حال جانتا ہے۔کیونکہ دلی خیالات پر جب بحث ہو تو انسان اس موقعہ پر کچھ فیصلہ نہیں کر سکتا۔اس وقت خدا تعالیٰ ہی فیصلہ کر سکتا ہے۔مگر میں پوچھتا ہوں کہ حضرت خلیفة المسیح الاول بھی اسی آیت سے اپنی خلافت کا استدلال کیاکرتے تھے اور بیسیوں بار آپ نے ایسا فرمایا ہے اور مجھے یقین ہے کہ آپ نے بھی ان سے ایساسناہوگا۔اگر نہیں سنا تو بعض غیر مبائعین میں سے آپ کے سامنے ضرور یہ شہادت دے سکتے ہوں گےکہ انہوں نے حضرت خلیفہ اول کو اس آیت سے اپنی خلافت کے متعلق استدلال کرتے ہوئے سناہے۔اس سوال کو چھوڑ کر کہ وہ بھی انسان تھے غلطی کر سکتے تھے۔لوگوں کا حق ہے کہ وہ آپ سےدریافت کریں کہ آپ کے مقرر کردہ قاعدہ کے لحاظ سے کیا وہ بھی حضرت مرزا صاحب کو مستقل نبی مانتے تھے کیونکہ بقول آپ کے اس آیت سے انہی خلفاء کی خلافت کی تائید میں استدلال ہو سکتا ہےجو مستقل نبی کے جانشین ہوں اور حضرت خلیفہ اول اس آیت سے اپنی خلافت پر استدلال کیاکرتے تھے۔پس اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ حضرت خلیفہ اول بھی ( آپ کے پیش کردہ اصل کے ماتحت حضرت مسیح موعودؑ کو مستقل نبي مانتے تھے۔نعوذباللہ من ذلک پھر ایک یہ بھی سوال ہے کہ قرآن کریم کی وہ کون سی آیت ہے جس سے یہ معلوم ہو تا ہے کہ خلفاء صرف مستقل نبی کے ہوا کرتے ہیں یہ تو ایک دعویٰ ہے جو دلیل کا محتاج ہے۔اگر آپ اس آیت کو پیش کریں تو اس پر غور ہو سکتا ہے ورنہ خود ہی ایک دعو یٰ کرنا اور اس کو دلیل کے طور پرپیش کرنا انصاف سے بعید ہے قرآن کریم میں کہیں نہیں آیا کہ خلافت صرف حقیقی نبی یا مستقل نبی