انوارالعلوم (جلد 2) — Page 140
۱۴۰ اسلام کو قبول کرلے گا۔غرض کہ حضرت مسیح موعودؑنے تمام مذاہب پر متفقہ طور سے اور فرداً فرداً اس رنگ میں حجت قائم کی ہے کہ اب ان میں سے کوئی بھی اسلام کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتا اور حقیقی معنوں میں اسلام کو دوسرے ادیان پر غلبہ حاصل ہو چکا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت جلد وہ دن پھر آرہے ہیں کہ جب دوباره آیت يدخلون في دين اللہ افواجا کا وعدہ پورا ہو گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔لیکن اب سوال یہ ہے کہ ایک شخص نے مسیحیت کا دعویٰ کیا اور اس دعوے کے بعد بجائے غضب الہٰی کا مورد بننے کے اس نے اس کام کو پورا کر کے دکھا دیا جس کے لئے مسیح کی بعثت ہونی تھی تو کیوں اس کے دعوے کی صداقت کو قبول نہ کیا جائے اور جب اللہ تعالی ٰکے وعدے پورے ہو چکے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ایسے واقعات سے جو اسلام کی عزت کا موجب ہیں آنکھیں بند کر کے یہی کہا جائے کہ نہیں ابھی آگے کوئی اور زمانہ آئے گا جبکہ یہ وعدے پورے ہو نگے جبکہ مرزا صاحب کی ذات سے مسیح موعود کا کام پورا ہو گیا ہے تو مانناپڑتا ہے کہ وہی مسیح موعود ہیں۔یہ کام تو بیرونی حملوں کے دفعیہ کے متعلق تھا اب میں اندورنی اصلاح کا ذکر کر تا ہوں کہ آپ نے اندورنی اصلاح کیاکی ؟لیکن میں لمبی تفصیلات میں نہیں پڑنا چاہتا کیونکہ اگر میں ان تمام غلطیوں کے ازالہ کا ذکر کروں جومختلف فرق ِ اہل اسلام میں پائی جاتی تھیں تو یہ مضمون بہت لمبا ہو جائیگا اس لئے میں مختصر اسقدر عرض کرتا ہوں کہ آپ نے قرآن کریم کی اصلی غرض اور مقصد سے مسلمانوں کو آگاہ کیا اور قدیم سنت اللہ کے ماتحت باوجود علماء کی سخت مخالفت اور گندے سےگندے مقدمے بنانے کے اللہ تعالیٰ نے آپکو فتح دی اور آپ نے ایک جماعت قائم کردی جواب بہت بڑی تعداد تک پہنچ گئی ہے اور پنجاب و ہندوستان کے ہر گوشہ میں حضرت مسیح موعودؑ کے ماننےوالے موجود ہیں کہ ہندوستان سے نکل کر اب عرب ،شام ،چین، مصر ، افریقہ اور انگلستان تک اس جماعت کا اثر پھیل گیا ہے اور غیر ممالک کے لوگ بھی اس طرف متوجہ ہو رہے ہیں گو میں تسلیم کرتا ہوں کہ ابھی غیر ممالک میں اس فرقہ کی طرف بہت کم توجہ ہوتی ہے لیکن اسکی ہی وجہ ہے کہ بہت قلیل عرصہ سے ہم نے غیر ممالک میں تبلیغ کا کام شروع کیا ہے مگر یہ تو اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ ابتداء میں دین نہایت آہستگی سے بڑھتا ہے اور قلیل تعدادسے کسی فرقہ کی صداقت میں شک نہیں کیا جاسکتا بلکہ یہ دیکھا جاتاہے کہ وہ فرقہ ترقی کر رہا ہے یا گھٹ رہا ہے چنانچہ اللہ تعالی ٰنے کفار عرب کے اس قسم کے ایک اعتراض کے جواب میں فرمایا ہے کہ