انوارالعلوم (جلد 2) — Page 132
۱۳۲ کے دو علماء نے بھی آپ کی ایک کتاب پڑھ کر سخت حیرت ظاہر کی اور آپ کی کتب اپنے حلقہ از هر میں تقسیم کرنے کے لئے طلب کیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ علمائے کرام نے بجائے جواب دینے کے مصنف کو گالیاں دینے میں کوئی کسر نہیں رکھی اور کفر کے فتوے لگائے اور اسلام کے مخالفین کی طرح چند صرفی نحوی غلطیاں نکالنی چاہیں لیکن جب ان کو وہی با تیں قرآن کریم اور احادیث میں دکھائی گئیں تو ان سے کوئی جواب نہ بن پڑا لیکن باوجو بار بار غیرت دلانے کے کسی کو یہ طاقت نہ ہوئی کہ ایک چھوٹا سا رسالہ ہی ان کتب کے خلاف لکھتا حالا نکہ اس وقت ہندوستان میں بہت سے علماء موجود ہیں اور ان کو اپنے علم کا بہت دعویٰ ہے مگر اس معاملہ میں سب کی طاقتیں سلب ہو گئیں ہاں بعضوں نے یہ بھی کہا کہ آپ نے کوئی عرب چھپا رکھا ہے جو آپ کی جگہ کتابیں تصنیف کرتا ہے لیکن جب کہا گیا کہ تم لوگ اپنے ساتھ کل علمائے مصر اور شام کو شامل کر لو اور سب مل کر جواب دو تو بھی انہوں نے مقابلہ کی طرف رجوع نہ کیا۔اور بات یہ ہے کہ یہ اعتراض وہی ہے جو قرآن کریم پر عربوں نے کیا تھا کہ یہ الہام نہیں بلکہ یہ کسی ایسے شخص کا کلام ہے جو نہایت فسیح اللسان ہے اور پوشیدہ طور پرمحمد ﷺ کو سِکھا دیتا ہے اور مسیحی آج تک یہ اعتراض کرتے چلے آئے ہیں پس اگر یہ اعتراض کوئی وقعت رکھتا ہے تو اس میں آپ اور آنحضرت ﷺدونوں شریک ہیں اور کیاہی مبارک ہے وہ انسان جسے آنحضرتﷺ کے ساتھ کسی امر میں شرکت کا موقع ملے۔غرض کہ آپ کی عربی کتب اب تک لا جواب پڑی ہیں اور کسی کو ان کا جواب لکھنے کی طاقت نہیں ملی۔پس جس طرح قرآن کریم کی صداقت کی یہ دلیل ہے کہ اس کی نظیر لانے سے لوگ قاصر ہیں اسی طرح مسیح موعودؑ کی صداقت کی بھی یہی دلیل ہے کہ آپ کی عربی کتب کی نظیر لانے سے لوگ قاصر ہیں اور اس کی وجہ کہ آپ کو وہ معجزہ کیوں دیا گیا جو آنحضرت ﷺکو دیا گیا تھا یہ ہے کہ چونکہ مسیح موعود نے بسبب قرب روحانی آنحضرت ﷺسے کامل مشابہت اختیار کرنی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ نے اسے بھی وہ معجزہ دیا جو آنحضرت ﷺ کو دیا تھا۔ہاں آقا و خادم کے معجزہ میں یہ فرق ضرور ہے کہ وہاں تو تین آیات کا مطالبہ تھا اور یہاں کم سے کم ایک جزو لکھنے کی شرط ہے مگر نہ تو قرآن کریم کے مقابلہ میں کسی کو تین آیات لکھنے کی توفیق ملی اور نہ اب با وجود اس قدر اشاعت علوم کے کوئی شخص عرب و شام و مصر میں سے ایک جزو بھی آپ کی کتب کے مقابلے پر لکھ سکا۔۔وذالک فضل الله بوتيه من يشاء