انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 133

۱۳۳ اس معجزہ کی شان اور بھی بڑھ جاتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود ؑہندوستان کے رہنے والے ہیں اور ان کی مادری زبان عربی نہیں اور پھر اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ آپ کسی مشہور عربی مدرسہ کے سند یافتہ نہیں نہ کسی مشہور عالم سے آپ نے تعلیم حاصل کی ہے بلکہ خدا تعالٰی کی طرف سے بطو را عجاز کے آپ کو یہ طاقت دی گئی ہے۔بعض لوگ یوں بھی کہہ دیتے ہیں کہ بہت سے لوگ ہیں جنکی کتب بے نظیر ہیں لیکن اول تو یہ اعتراض قرآن کریم پر بھی پڑتا ہے۔دوم اس کو تسلیم کرتے ہیں کہ بہت سی کتب بے نظیر خیال کی گئی ہیں لیکن وہ کتب اس لئے قابل التفات نہیں کہ ان مصنّفین نے کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ ان کی کتب بے نظیر ہیں حالانکہ یہاں قبل ازوقت دعویٰ موجود ہے اور باوجود مخالفت کے کوئی مقابلہ نہیں کرسکا۔اس کے علاوہ ایک اور نشان ہے جو اللہ تعالی ٰنے آپ کو دیا ہے اور وہ اپنے الہامات شائع کرنے کے بعد قریبا ًًپچیس چھبیس سال کی زندگی کا عطا ہو تا ہے حالانکہ اللہ تعالی ٰقرآن کریم میں فرماتا ہے کو وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِیْلِ لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْیَمِیْنِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِیْنَ (الحاقہ : ۴۵ تا ۴۷) یعنی اگر یہ شخص ہم پر افتراء کرتا اور اپنی طرف سے الہام بنا کر سنا تاتو ہم اس کی رگ گردن کاٹ دیتے اب ہم اس معیار کے مطابق آپ کے دعوے کو پرکھتے ہیں تو آپ کو بر اہین احمدیہ اپنی پہلی تصنیف کے شائع کرنے کے بعد ستائیس اٹھائیس سال تک زندگی عطا ہوئی حالانکہ آپ نے اس کتاب میں اپنے الہامات نہایت زور اور تحدی کے ساتھ شائع فرمائے تھے پس اگر آپ مفتری ہوتے تو ضرور تھا کہ کم سے کم تیئیس (۲۳ )سال میں آپ ضرور ہلاک ہو جاتے کیونکہ آنحضرت ﷺ کو تیئس سال مہلت ملی اور اگر کسی مفتری کو اس قدر مہلت مل سکتی ہے تو پھر نہ صرف اس آیت کی تکذیب ہوتی ہے بلکہ خود آنحضرت ﷺ کی صداقت پر شبہات وارد ہوتے ہیں پس آپ کا اس طویل عرصہ تک زندہ رہنا آپ کے برحق ہونے کا ایک زبردست ثبوت ہے۔اگر یہ آیت کریمہ نہ بھی ہوتی تو بھی عقل کبھی اجازت نہیں دیتی کہ ایک شخص اللہ تعالیٰ پر متواتر جھوٹ بولتا ہے اور لوگوں کو گمراہ کرتا ہے لیکن اللہ تعالی ٰاسے کوئی سزا نہیں دیتا اگر اس طرح ممکن ہو تو سچے مأموروں اور کاذبوں میں کوئی مابہ الامتیاز نہیں رہتا اور امان اٹھ جاتا ہے اور صداقت کے معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ باقی نہیں رہتا اللہ تعالیٰ تو بہت ہی غیور ہے ہم دیکھتے ہیں کہ