انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 103

۱۰۳ یہ كلمات اللہ تعالی ٰکی صفت رحمانیت کے بھی جاذب ہیں۔یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت وہ ہے جس کے ماتحت بلا کسی محنت اور مشقت کے انسان پر انعام ہوتا ہے اور صفت رحیمیت وہ ہے جس کا نزول انسان پر کسی عمل کے بدلہ میں ہوتا ہے اور چونکہ انسان کے اعمال محدود ہوتے ہیں اس لئے اس کی جزاء بھی خواہ کس قدر ہی زیادہ ہو آخر محدود ہوگی جیسا کہ قرآن شریف اور احادیث سے معلوم ہو تا ہے کہ نیک اعمال کےبدلہ میں دس گنے اور ستر گنے بلکہ سات سو گنے تک ثواب ملتا ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ لیکن پھر بھی یہ بدلہ ایک حد تک نسبت عمل کے لحاظ سے ہی ہوتا ہے مگر جو احسان کہ رحمانیت کے ماتحت ہوتا ہے وہ چونکہ کسی عمل کے بدلہ میں نہیں ہوتا اس کی کوئی حد مقرر نہیں کی جاسکتی۔پس حبيبتان إلى الرحمن سے آنحضرت ﷺنے یہ ظاہر فرمایا ہے کہ دوسری عبادات کا بدلہ تو صفت رحیمیت دیتی ہے مگر یہ کلمات مفت رحمانیت کے جاذب ہو جاتے ہیں لیکن جب انسان اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید کرتا اور اس کی عظمت کا اقرار کرتا ہے تو نہ صرف رحیمیت جوش میں آتی ہے بلکہ صفت رحمانیت بھی جوش میں آکر اس پر نازل ہوتی ہے اور چونکہ یہ نزول رحمانیت نسبت عمل کے لحاظ سے نہیں بلکہ احسان کے طور پر ہو تا ہے اس لئے اعمال حسنہ کا ترازو بہت وزنی ہو جاتا ہے کیونکہ صفت رحمانیت کا نزول جب صفت رحمت کے ساتھ ہوتا ہے تو اس کی عظمت کی کوئی انتہاء نہیں رہتی۔اصل بات یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ واذا احييتم بتحية فحيؤا بأحسن منها اوردوھا (النساء :۸۷) جب تمہاری نسبت کو ئی کلمہ نیک استعمال کیا جائے تو تم کو بھی چا ہیے کہ اس کے قائل کی نسبت اس سے بہتر کلمہ نیک کا کم سے کم وہی کلمہ استعمال کرو جیسا کہ السلام علیکم کے جواب میں وعلیکم السلام - تو کیونکر ممکن ہے کہ اللہ تعالی ٰجو غیرمحدود خزانوںوالا ہے اور بہتر سے بہتر بدلہ دینے والا ہے اپنے بندوں سے اس طرح معاملہ نہ کرے وہ کرتا ہے اور ضرور کرتا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب میرا بندہ میری طرف ایک قدم آتا ہے تو میں دو قدم آتا ہوں جب وہ تیز چل کر آتا ہے تو میں دوڑ کر آتا ہوں پس اسی اصل کے ماتحت جب ایک بندہ اللہ تعالیٰ کی نسبت کہتا ہے کہ الہٰی آپ پاک ہیں تو اللہ تعالی ٰایک تو اسے اس کی اس عبادت کا بدلہ دیتا ہے دوسرے اس کی نسبت بھی پاکیزگی کا حکم فرماتا ہے کہ حيؤا بأحسن منها اوردوھا پس جب اللہ تعالی ٰکی بندہ کی نسبت فرمائے گا تو پاک ہو تو پھر اس کے گناہ کہاں باقی رہ سکتے ہیں اسی