انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 104 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 104

۱۰۴ طرح جب بندہ اپنے رب کی نسبت کہتا ہے کہ الہٰی آپ بڑی تعریفوں والے ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کو تعریفوں والا کر دیتا ہے اور جب وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کا اقرار کرتاہے تو خدا تعالیٰ اسے بڑابنادیتاہے پس اللہ تعالی ٰکی تسبیح اور تحمید اور عظمت کے اقرار سے ایک تو عبادت کا ثواب ملتا ہے اور ایک اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت جوش میں آکر اس بندے کو پاک کردیتی ہے‘ قابل تعریف بنادیتی ہے ،بڑا بنا دیتی ہے اسی وجہ سے حدیث میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کلمتان خفيفتان على اللسان ثقيلتان في الميزان حبيبتان الى الرحمان سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم اور چونکہ نماز تفصیل ہے ان کلمات کی اور اس کے ہر ایک رکن میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تحمید کی جاتی ہے اور عظمت بیان کی جاتی ہے اس لئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان الصلوة تنهى عن الفحشاء والمنكر( العنکبوت :۴۶) کیونکہ جوں جوں انسان نمازیں پڑھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی اور حمد اور عظمت کا اقرار کرتاہے۔خدا تعالیٰ اس کے اعمال حسنہ کے ترازو کو بو جھل کرتا جاتا ہے اور انسان کا رفع ہو تا جا تا ہے اور چونکہ گناه نتیجہ ہے مادیت کے تعلق کا۔جب انسان اس عالم سے بلند ہو تا جا تا ہے تو اس کا تعلق مادیت سے کم ہو تا جا تا ہے او رلا زماًوہ گناہوں سے محفوظ ہو تا جا تاہے۔پس جو انسان نمازیں پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ کی تسبیح بھی کرتا ہے تحمید بھی کرتا ہے او راس کادرجہ بلند نہیں ہوتا اور اسے پاک نہیں کیا جاتا بلکہ وہ طرح طرح کے گندوں میں مبتلاء ہے تو صاف ظاہر ہے کہ اس کی تسبیح و تحمید میں کوئی نقص ہے پس مسلمانوں کا نمازیں پڑھنا اور ان پر مداومت کرنا اس بات پر قطعا ًدلیل نہیں کہ وہ نیک ہیں اور ان میں ابھی دین باقی ہے کیونکہ جب نمازوں سے وہ اثمار نہیں پیدا ہوتے جو نمازوں کے لئے مخصوص ہیں تو وہ نمازیں بے مغز ہیں اور ان کے اندر ہزاروں قسم کے ایسے اجرام داخل ہو گئے ہیں جنہوں نے ان کی قوت مثمر ہ کو ضائع کردیا ہے۔اسی طرح زکوٰۃ کی نسبت قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا (التوبہ : ۱۰۳ ) اے نبی ان کے اموال سے زکو ٰۃلیا کرو اور اس ذریعہ سے ان کو ظاہری و باطنی طور پر پاک کیا کرو اب جو لوگ زکوٰۃ دیتے ہوئے پاک نہیں ہوتے اور ان کے اموال طيب نہیں ہیں بلکہ ہر قسم کے جائز و ناجائز وسائل سے وہ ان کو پڑھاتے رہتے ہیں اور دل سے دنیا کی محبت سرد نہیں ہوتی تو ہم کب کہہ سکتے ہیں کہ وہ لوگ ز کو ٰۃدیتے ہیں۔اسی طرح روزہ کے احکام بیان فرما کر الله تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کذلک یبین اللہ ایتہ للناس لعلھم یتقون