انوارالعلوم (جلد 2) — Page 92
۹۲ اسلامی آبادی کے تناسب سے بہت زیا دہ قید خانوں میں نظر آتے ہیں ان کے گناہ بھی کوئی معمولی نہیں ہوتے گندے سے گندے اور بد سے بد اعمال کے بدلہ وہ سزائیں بھگت رہے ہیں چوریاں،ڈاکے، زنا بالجبر آوارگی ،غداری‘ خيانت ،مجرمانہ دھوکہ دہی ، ٹھگی ،استحصال بالجبر، جعلسازی وه کونسا گناہ ہے جس کے مسلمان مرتکب نہیں اور یہ تو وہ گناہ ہیں جن پر گورنمنٹ کی طرف سےمواخذہ ہو تا ہے ورنہ اور ایسے بہت سے گناہ ہیں کہ جن کے ذکر سے بھی بدن کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں لیکن مسلمان ان کے مرتکب ہو رہے ہیں حتی ّٰ کہ بعض موقع پر محرمات کی حرمت کا بھی خیال نہیں رکھا جا تا۔دین سے وہ بے پروائی ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں امراء عیاش اور دنیا طلبی میں مشغول ہیں صوفیاء گانے اور قوالی سننے میں مصروف ہیں علماء جھوٹے فتوے دیتے ہیں وعظ بھی کہتے ہیں لیکن خود عمل نہیں کرتے۔نئے تعلیم یافتہ خود وجود باری سےمنکر ہیں اور اپنی خاص مجالس میں ہستی باری کے عقیدہ کو ایک لغو اور بے ثبوت عقیدہ قرار دیتے ہیں۔دین کو وہم اور شریعت کوقید خیال کرتے ہیں عوام ان جماعتوں میں سے جس کے ساتھ تعلق ہو اسی کے رنگ میں رنگین ہیں جس قدر فاحشہ عورتیں مسلمانوں میں سے ہیں جو عصمت فروشی پر فخر محسوس کرتی ہیں غیر قوموں میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔پس یہ حالت ایسی نہیں ہے جسے دیکھ کر ایک درد مند دل بے اختیار نہ ہو جائے۔نام ہی اسلام کا رہ گیا ہے ورنہ کام کے لحاظ سے تو اسلام کا کچھ بھی باقی نہیں رہا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ گورنمنٹ برطانیہ کے زیر سایہ ہندوستان کے مسلمانوں نے کچھ تجارتی اور علمی ترقی کی ہے لیکن اسے اسلام کی ترقی نہیں کہا جاسکتا کیونکہ اسلام کی بعثت کی اصل غرض دنیا کی ترقی یا اموال دنیا کی زیادتی نہ تھی بلکہ اس کا اسلام کے مدعا اور مقصد کے ساتھ کوئی تعلق یا رشتہ ہے ہی نہیں وہ مذہب قطعاًمذہب کہلانے کا مستحق نہیں ہے دنیاوی ترقی کو اپنا متہاء ومقصد ظاہر کرے کوئی ایسامذہب ہو کسی خاص قوم یا ملک سے تعلق رکھے جیسا کہ اسلام سے پہلےمذاہب تھے ان کا مدعاتو دنیاوی ترقی ہو بھی سکتا ہے کیونکہ ممکن ہے کہ ایک وقت کوئی قوم ذلیل اور خوار ہو اور مذہب کی آڑ میں اپنی حکومت جمانا چاہے لیکن اسلام کا تو دعویٰ ہے کہ میں سب دنیا اورسب اقوام کے لئے ہوں۔بحیثیت مذہب اسلام کے لئے عرب، رومی اور ایرانی ایک سے ہیں۔پس اگر اسلام کا مدعا صرف اتناہی ہو کہ دنیا میں بادشاہتیں قائم کی جائیں تو یہ کام پہلے ہی ہو رہا تھا۔رومیوں اور ایرانیوں کی زبردست حکومتیں قائم تھیں۔ہند و چین بھی دنیاوی حالت میں کمزور نہ