انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 93

۹۳ تھے پس اگر اسلام کا مدعا دنیاوی ترقی تھا تو پھر اسلام کی کوئی ضرورت معلوم نہیں ہوتی کیونکہ مسلمانوں کے خزانوں سے قیصروکسری ٰکے خزانے زیادہ معمور تھے اور اسلامی دربار کی سادگی ایرانیوں اور رومیوں کے درباروں کے تکلفات کا قطعا ًمقابلہ کر ہی نہیں سکتی تھی پس یہ خیال کرناکہ اسلام کامد عادنیاوی ترقی تھا اور اس کے نزول کی غرض صرف قوموں کو ابھار کردنیا کمانے اوراس میں مسابقت تھی اسلام پر ایک ظلم عظیم ہے اور کوئی کور چشم ہی یہ دعوی ٰکرے تو کرے اور کسی کا حق ہی کیا ہے کہ وہ ایسی لغو بات اسلام کی طرف منسوب کرے جبکہ خود قرآن کریم آنحضرتﷺ کی بعثت کی غرض یہ بیان فرماتا ہے کہ كَمَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْكُمْ رَسُوْلًا مِّنْكُمْ یَتْلُوْا عَلَیْكُمْ اٰیٰتِنَا وَ یُزَكِّیْكُمْ وَ یُعَلِّمُكُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ یُعَلِّمُكُمْ مَّا لَمْ تَكُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ (البقرہ:۱۵۲-۱۵۳) جیسا کہ ہم نے تم میں ایک رسول بھیجا ہے جو تمہیں لوگوں میں سے ہے اس کا کام یہ ہے کہ وہ تم پر ہمارے دلائل و براہین پڑھتا ہے اور اس طرح تم کو پاک کرتا اور مدارج عالیہ کی طرف بڑھاتا اور اٹھاتا ہے اور تم کو شریعت سکھاتا ہے اور پھر احکام شریعت کے باریک در بار یک حکم اور پوشیده اسرار پر واقف کرتا ہے اور صرف وہی تعلیم نہیں دیتا جو کہ پہلے صحیفوں میں پائی جاتی ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ایسی تعلیم دیتا ہے جو تم لوگوں کو معلوم ہی نہیں تھی پس تم لوگ میرا ذکر کرو تاکہ میں بھی تمہیں اپنے دربار میں بار دوں اور میرے انعامات پر جواس رسول کے ذریعہ سے تم پر کئے ہیں شکر بجالاتے رہواور میری ناشکری نہ کرنا۔پس اسلام لوگوں کو علم و حکمت اور دلائل و براہین امور ایمانیہ غیبیہ اور طریق تزکیہ نفوس اور حصول مدارج عالیہ اور وہ معارف جو قرب الہٰی کے حصول میں انسان کے ممد ہوں سکھانے کے لئے آیا ہے نہ اموال دنیا کے اکتساب اور حکومت و سلطنت کے قیام کے طریق سکھانے کے لئے۔اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اسلام ایک کامل مذہب ہے اور اپنے کامل ہونے کی وجہ سےانسان کو کسی ایسے ضروری امر سے جو انسان کی ترقی میں کسی راہ سے بھی ممد ہو نہیں روکتا اور جہاں دینی ترقیوں کی طرف انسان کو متوجہ کرتا ہے وہاں دنیاوی ترقیات کے حصول کی بھی ترغیب دیتا ہےاور تمام انسانوں کو معزز اور مکرم ہونے کی تاکید کرتا ہے کوئی علم مفید نہیں جس کے سیکھنے میں اسلام مانع ہو بلکہ علوم مفیدہ کے حصول کے لئے قرآن کریم اور احادیث صحیحہ میں مسلمانوں کو بار بار تاکید کی گئی ہے اسی طرح تجارت اور صنعت و حرفت کی ترقیوں سے بھی بجائے منع کرنے کے