انوارالعلوم (جلد 2) — Page 588
۵۸۸ سے آپ کا گمراہ ہونا ثابت ہے۔اسی طرح فلا تكن من الممترين کی آیت سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺبھی قرآن کریم کے و حی الہٰی ہونے پر شک رکھتے تھے وہ نادان نہیں چاہیے کہ ان آیات کے علاوہ قرآن کریم کی اور آیات بھی ہیں جن کو ملا کر ان آیات سے نتیجہ نکالنا چاہئے اور کام کے ماتحت متشابہ کو کرنا چاہئے اور جبکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان الله لا يجب المعتدين کہ اللہ تعالیٰ گنہگاروں اور حد سے نکلنے والوں سے محبت نہیں کرتا اور رسول اللہ ﷺ کی نسبت یہ فرماتا ہے کہ قل ان کنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله( ال عمران۳۲) کہ اگر تم اللہ تعالی ٰسے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرو کہ تم اللہ تعالی ٰکے محبوب ہو جاؤ گے تو کیا اس سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ جس کی پیروی بھی خداتعالی ٰکا محبوب بنادیتی ہے وہ گنہگار نہیں ہو سکتا۔کیونکہ اللہ تعالی ٰتو گنہگار سے محبت نہیں کرتا پھر یہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالی ٰرسول الله ﷺ کی نسبت فرماتا ہے کہ لقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة(الاحزاب:۲۲) تمہارے لئے ہمارے اس رسول میں نہایت عمده قابل انواع و نقل نمونہ ہے۔اسی طرح دو لوگ امتراء کی آیت کو تو پیش کرتے ہیں لیکن اس محکم آیت پر غور نہیں کرتے کہ قل هذه سبيل ادعوا الى الله على بصیرة انا ومن اتبعنى (يوسف :۱۰۹) کہہ دے کہ میری راہ ہے میں تم کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہوں میں اور میرے متبع ایسی ہدایت پر قائم ہیں جو ہمارے لئے ایسی یقینی ہے جیسے آنکھوں دیکھی۔اسی طرح ضال کا لفظ تو دیکھتے ہیں۔مگر ان کو قرآن کریم میں یہ آیت ہمیں نظر آتی۔کہ ماضل صابكم وماغوی غرض کہ اس طرح ایک ایک حوالہ سے نتائج نکالنے شروع کر دیئے جائیں تو نہ اسلام اسلام رہتا ہے اور نہ قرآن قرآن۔کیا یہ معترض لوگ اتنا خیال نہیں کرتے کہ ہم اپنے طریق عمل سے خود قرآن کریم پر اعتراض کر رہے ہیں اور عیسائیوں اور آریوں کی پیٹھ بھر رہے ہیں مگر مجبوری یہ ہے کہ ان لوگوں کو قرآن کریم کے مطالب پر تو عبور ہے ہی نہیں اور اگر ہو تا تو یہ بھی اعتراض ہی نہ کرتے کیونکہ قرآن کریم نے تو نبی کی تعریف ایسے صاف الفاظ میں کر دی ہے کہ اس کے بعد کسی اعتراض کی گنجائش ہی نہیں رہتی ان لوگوں کو تو صرف حوالہ کے مقابلہ میں حوالہ نکال کر بحث گرم کرنے کا شوق ہے نہ کہ تحقیق حق اگر تحقیق حق مراد ہوتی اور ان مخلصین کو دھوکا دینا مدنظر نہ ہو تا جو نیک نیتی مگر غلط فہمی سے ان کے پیچھے چل پڑے ہیں تو کسی اصل اور قاعدہ کے ماتحت بات کرتے نہ کہ متشابہات کے ذریعہ لوگوں کو بہکاتے مگروہ یاد رکھیں کہ اس طرز سے اسلام کو بلکہ اپنے ایمان کو نقصان پہنچارہے ہیں۔جبکہ حضرت مسیح موعو دؑ صاف طور پر فرما چکے