انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 587 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 587

۵۸۷ ہیں کہ میں مستقل طور پر اپنے تیئں ایسانبی سمجھتا ہوں کہ قرآن شریف کی پیروی کی کچھ حاجت نہیں رکھتا اور اپنا علیحدہ کلمہ اور علیحدہ قبلہ بناتا ہوں اور شریعت اسلام کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہوں۔اور آنحضرت اﷺکے اقتداء اور متابعت سے باہر جاتا ہوں۔یہ الزام صحیح نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔اور جس حالت میں خدا میرا نام نبی رکھتا ہے تو میں کیو نکر۔۔۔۔۔۔انکار کر سکتا ہوں میں اس پر قائم ہوں اس وقت تک جو اس دنیا سے گزر جاؤں۔" (بحوالہ بدر ۱۱ جون ؁ ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۰ اب غور کرو کہ اگر آپ فی الواقع نبی نہ تھے بلکہ محدث تھے تو یہ کیا وجہ تھی کہ جب کوئی شخص کہتا ہے کہ آپ نبی نہیں ہیں یا یہ کہ آپ نے نبوت سے انکار کردیا ہے تو آپ فور اًاس کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں ایسانبی نہیں جیساتم خیال کرتے ہو لیکن قرآن کریم کو منسوخ کرنے والا لیکن میں نبی ہوں کیا بھی آپ نے اپنی جماعت کو اس بات پر بھی ڈانٹا تھا کہ مجھے آدمی کیوں قرار دیتے ہو مجھے تو اللہ تعالیٰ بمنز لہ ولدی فرماتا ہے پس بمنزلہ ولد اللہ کہاکرو یا یہ کہ مجھ میں قادرانہ تصرف ماناکرو کیونکہ میں نے رؤیا میں زمین و آسمان بنائے ہیں مگر آپ نے ایسا اعلان بھی شائع نہیں کیا جس سے معلوم ہو تا ہے کہ نبوت کا مسئلہ ان مسائل سے کچھ مختلف ہے غرض کہ یہ بات ممکن ہی نہیں کہ ۲۳ مئی کو تو آپ اعلان کریں کہ میں نبی ہوں اور میں نے نبوت سے انکار نہیں کیا۔لیکن ۲۵ مئی کو پھر یہ ثابت کریں کہ میں نبی نہیں ہوں۔باقی رہا ہے کہ آپ نے پہلے مجددین کی نسبت بھی نبوت کو منسوب کیا ہے اور اپنے آپکو ان میں شامل کیا ہے۔سو اس کا جواب آسان ہے اور جن لوگوں نے اس حوالہ سے دھوکا کھایا ہے وہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے قرآن کریم پر غور نہیں کیا۔اور بحث مباحثہ کر کے اپنی عزت و شہرت قائم کرنے کے سوا ان کی کوئی غرض نہیں لیکن وہ نہیں جانتے کہ جو کام ہم اپنی عزت قائم کرنے کے لئے کرتے ہیں وہ درحقیقت ہماری جہالت اور نادانی کے اظہار کاذریعہ ہے اور بجائے حق طلبی کے ثبوت کے ہماری ضد و تعصب کے آشکار کرنے کا باعث ہے اگر وہ لوگ غور کریں تو ان کو معلوم ہو جائے کہ وہ اس وقت عیسائیوں اور آریوں کے طریق اعتراض کو اختیار کر رہے ہیں۔وہ بھی اسی قسم کے اعتراض کیا کرتے تھے اور کرتے ہیں اور ایک آیت قرآن لے کربلا اس بات کے خیال کے کہ اسی مضمون کی تشریح دو سری جگہ سے بھی ہوتی ہے اس پر اعتراض کردیتے ہیں مثلاً رسول اللہ ﷺکی نسبت لفظ استغفار اورذنب کادکھا کر مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ دیکھو تمہارانبی (نعوذ باللہ من ذلک) گناہگار تھا۔یا وجدك ضالا فھدی کو پیش کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ من ذلک۔اس