انوارالعلوم (جلد 2) — Page 352
۳۵۲ لیکن مسلمانوں کی اصطلاح میں کلمہ کلمہ شہادت کو بھی کہتے ہیں۔جو ایک لفظ نہیں بلکہ ایک جملہ ہے۔اب اگر کوئی شخص کلمہ کا لفظ نحویوں کی اصطلاح کے مطابق استعمال کرے اور کہے کہ کلمہ ایک لفظ کو کہتے ہیں تو کسی دانا کا کام نہیں کہ اس پر فور اً الزام لگاوے کہ دیکھو اس نے رسول الله ﷺ کی ہتک کی ہے آپ تو ایک مصرعہ کو کلمہ فرماتے ہیں جیسا کہ فرمایا اصدق کلمة قالھا کبید الا کل شیء ما خلا الله باطل یعنی لبید شاعر کا سب سے اچھا کلام یہ ہے کہ ا گشت ما لا اللباطل۔اور یہ ایک لفظ کو کلمہ کہتا ہے۔اور اس بات پر اعتراض نہ کرنے کی وجہ یہ ہوگی کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کی تکذیب نہیں کی بلکہ ایک دوسری اصطلاح کے رو سے اس لفظ کو استعمال کیا ہے لیکن افسوس ہے کہ دنیا کی پیدائش کے بعد شاید یہ پہلاہی زمانہ آیا ہے کہ ایک لفظ جب کسی دوسرے معنوں میں تشریح کے لئے استعمال کیا جاتا ہے تو لوگوں کو دھوکا دینے کے لئےاور ان کی طبائع میں اشتعال پیدا کرنے کے لئے اسے ایک ایسے رنگ میں لوگوں تک پہنچایا جاتاہےجس سے کہنے والے کے مفہوم کو غلط سمجھیں اور قائل کے معنوں کے علاوہ اور رنگ دے کر اس لفظ کا ناجائز استعمال کیا جا تا ہے۔اور پھر یہ سب کچھ اس شہادت کی موجودگی میں ہے، جو خود حضرت مسیح موعودؑ کے کلام میں پائی جاتی ہے۔اس بات کے ثبوت میں کہ میں حضرت مسیح موعودؑ کو حقیقی نبی مانتا ہوں دوسری یہ دلیل دی گئی ہے کہ میں نے کہیں لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعود رسولوں اور نبیوں کے گروہ میں شامل ہیں اوراس سے ثابت ہوا کہ میں آپ کو حقیقی نبی مانتا ہوں۔یہ دلیل بھی سخت غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔پہلےنبیوں میں شامل ہونے سے یہ کہاں سے ثابت ہوا کہ آپ حقیقی نبی یا دوسرے الفاظ میں نئی شریعت لانے والے نبی تھے۔اگر پہلے نبیوں میں شامل کرنے سے ایک نبی ہر رنگ میں ان ہی کا سا ہو جاتاہے تو شاید آپ کہتے ہوں گے کہ آنحضرتﷺ پہلے نبیوں میں شامل نہ تھے کیونکہ پہلے ہی تو خاتم النّبیّن نہ تھے اور وہ سب دنیا کے لئے نہ آئے تھے پس جو شخص کہتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نبیوں کے گروہ میں شامل ہیں وہ آپ کے مقرر کردہ قاعدہ کے مطابق گویا آپ کی ختم نبوت کا منکر ہے۔مگر کوئی عقلمند انسان اس قاعدہ کو تسلیم نہیں کر سکتا۔جبکہ میں نے اپنے رسالہ میں نبیوں کی چند خصوصیتیں بیان کی ہیں۔اور لکھا ہے کہ ایک حقیقی نبی ہوتے ہیں جو شریعت لاتےہیں۔ایک مستقل نبی ہوتے ہیں جو شریعت تو نہیں لاتے مگر ان کو نبوت بلا و اسطہ ملتی ہے۔اور ایک وہ نبی جو نہ شریعت لاتے ہیں۔اور نہ ان کی نبوت بلا واسطہ ہوتی ہے ، اور میں نے حضرت مسیح موعودؑ کو اس تیسری قسم