انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 353 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 353

۳۵۳ انوار العلوم جلد۲ حقيقۃالنّبوّة(حصہ اول) کی نبوت کا پانے والا لکھا ہے تو میری اس تصریح کی موجودگی میں کوئی شخص کس طرح جرأت کر سکتا ہے کہ لکھے کہ میں حضرت مسیح موعودؑ کو حقیقی نبی خیال کرتا ہوں جب کہ میری تقسیم کے مطابق حضرت مسیح موعودؑ پہلے نبیوں میں شامل ہونے کے باوجود بھی حقیقی نبی نہیں ہیں تو اس کے خلاف میری طرف کوئی بات منسوب کرنی دیانتداری کے خلاف ہے آپ یہ لکھ سکتے ہیں کہ یہ خصوصیتیں غلط ہیں۔آپ لکھ سکتے ہیں کہ نبیوں کی خصوصیتیں ہم نہیں مانتے۔آپ لکھ سکتے ہیں کہ حضرت صاحب نبی نہیں تھے اور اس کے علاوہ آپ اپنا عقیدہ جو چاہیں ظاہر کر سکتے ہیں یا میرے عقیدہ پر حملہ کر سکتے ہیں لیکن میری طرف وہ بات منسوب نہیں کر سکتے جو میں نے نہیں کہی۔اور جو میرے اعتقاد کے خلاف ہے اور جس کے خلاف میں بڑے زور سے اعلان کر چکا ہوں۔گورنمنٹ کی ملازمت میں ایک محکمہ سول سروس کا کہلا تا ہے اور سول سرونٹ ڈپٹی کمشنر بھی ہوتے ہیں۔کمشنر بھی ہوتے ہیں۔چیف کمشنر بھی ہوتے ہیں۔اب اگر کوئی شخص کسی شخص کی نسبت یہ کہے کہ یہ سول سروس میں شامل ہے تو کیا اس کے ضرور یہ معنی ہوں گے کہ وہ اسے کمشنر قرار دیتا ہے۔اسی طرح نبی کا ایک درجہ ہے۔اور اس درجہ اور رتبے کو پانے والوں کی مختلف خصوصیات ہیں۔ایک شخص باوجود اس کے کہ اس میں بعض خصوصیتیں نہ پائی جائیں نبی ہو سکتا ہے جس طرح ایک شخص باوجود اس کے کہ کمشنری کے درجہ کو نہیں پہنچا۔سول سروس کا ممبر ہے۔اس الزام کی تردید کے بعد کہ یہ بھی خودنفس مضمون سے تعلق رکھتا ہے اور اصل مضمون پراس سے روشنی پڑتی ہے میں دوسرے امور کے جواب دینے کی طرف توجہ کرتا ہوں لیکن اس قدرکہنا اور بھی ضروری ہے کہ باوجود اس کے کہ اپنے ٹریکٹ میں مولوی محمد علی صاحب نے مجھےمخاطب کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر اس ٹریکٹ میں میں نے جو کچھ لکھا ہے وہ درست نہیں تو مجھ سےمباحثہ کرلو۔میری طرف یہ ٹریکٹ نہیں بھیجا۔اور کل تیرہ تاریخ کو ایک دوست کے خط سے معلوم ہؤا کہ کوئی رسالہ شائع ہوا ہے، مگر مجھے نہ کل کی ڈاک میں رسالہ ملا اور نہ آج کی ڈاک میں۔حالانکہ میں نے رسالہ القول الفصل فورا ًخواجہ صاحب اور مولوی صاحب اور ان کے دو سرے دوستوں کی خدمت میں مختلف جگہ بھیج دیا تھا اور گو خواجہ صاحب نے بھی اپنا لیکچر میرے نام نہیں بھیجا تھا لیکن اب چونکہ میں ان کے نام رسالہ بھیج چکا تھا اور میرے رسالہ کا جواب دیا گیا تھامناسب تھا کہ یہ رسالہ فورا ًمیرے نام بھیج دیا جا تاممکن ہے کل یا پرسوں وہ میرے نام رسالہ بھیج دیں لیکن اخلاقاً ان کو میرے نام فور اً یہ رسالہ بھیج دینا چاہئے تھا اور اگر کسی قیمت پر فروخت کیا گیا تھا تو بھی