انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 298

۲۹۸ (مؤرخہ ۲۰/ ستمبر۱۹۰۱ء) سید عبد اللہ صاحب عرب نے سوال کیا کہ میں اپنے ملک عرب میں جاتا ہوں وہاں میں ان لوگوں کے پیچھے نماز پڑھوں یا نہ پڑھوں۔فرمایا مصدقین کے سوا کسی کے پیچھےنماز نہ پڑھو۔عرب صاحب نے عرض کیا وہ لوگ حضور کے حالات سے واقف نہیں ہیں اور ان کوتبلیغ نہیں ہوئی فرمایا ان کو پہلے تبلیغ کردینا پھر یا وہ مصدق ہو جائیں گے یا مکذّب۔عرب صاحب نےعرض کیا کہ ہمارے ملک کے لوگ بہت سخت ہیں اور ہماری قوم شیعہ ہے۔فرمایا تم خدا کے بنواللہ تعالیٰ کے ساتھ جس کا معاملہ صاف ہو جائے اللہ تعالی ٰآپ اس کامتولی اور متکفل ہو جاتا ہے\"۔(الحکم جلد پنجم نمبر ۳۵ مورخہ ۲۴/ ستمبر ۱۹۰۱ء صفحہ ۶ فتاوٰیٰ احمدیہ جلد اول صفحہ ۱۸) ’’سوال ہوا کہ اگر کسی جگہ امام نماز حضور کے حالات سے واقف نہیں تو اس کے پیچھے نمازپڑھیں یا نہ پڑھیں۔فرمایا پہلے تمہارا فرض ہے کہ اسے واقف کرد۔پراگر تصدیق کرے تو بہتر ورنہ اس کے پیچھےاپنی نماز ضائع نہ کرو۔اور اگر کوئی خاموش رہے نہ تصدیق کرے نہ تکذیب تو وہ بھی منا فق ہے اس کے پیچھے نماز نہ پڑھو"۔(فتاوٰیٰ احمدیہ جلد اول صفحہ ۸۲) ان تینوں حوالوں سے صاف ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑکے اس فتویٰ میں کسی اختلاف کی گنجائش نہیں اور بالکل صاف فتوی ٰہے۔باقی رہا یہ سوال کہ حضرت خلیفہ اول نے اس کے خلاف کیوں فتویٰ دیا سواس کی کئی وجوہات ہوسکتی ہیں۔ہو سکتا ہے کہ آپ کو یہ تو معلوم نہ ہو۔ہو سکتاہے کہ آپ کے بار بار کے اصرار پر اس خیال سے کہ آپ کسی زیادہ خطرناک ابتلاء میں نہ پڑیں اجازت دیدی ہو۔مگر خواجہ صاحب آپ نے ولایت کی زمین کو ایسامطہّر اور پاک کننده خیال کیا کہ خود آپ کے خیال کے مطابق جس ملک کے باشندوں کے پیچھے نماز پڑھنی جائز نہ تھی ولایت میں آپ نے ان کے پیچھے نماز پڑھ لی حالا نکہ انگلستان کی زمین میں کوئی ایسی خصوصیت نہیں جس سے ہندوستان کے لوگ جب ولایت میں جائیں تو ان کے پیچھے نماز پڑھنی جائز ہو جائے۔آپ نے۱۸۹۲ء کا ایک واقعہ لکھا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑنے لاہور میں غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھی اور کفر نامہ اس سے پہلے کا تیار تھا اس لئے معلوم ہوا کہ مسئلہ کفر باعث نہ تھاغیراحمدیوں کے پیچھے نماز چھوڑنے کا۔مجھے اس واقعہ سے انکار نہیں اور یہ واقعہ ہماری تائید میں ہے نہ کہ تردید میں یہ واقعہ تو ان لوگوں پر حجت ہے جو کہتے ہیں کہ نماز صرف ان کے پیچھے حرام ہے جو مکفّر ہوں دوسروں کے پیچھے جائز ہے اور جو اپنی تائید میں لاہور میں حضرت مسیح موعود ؑکی ایک بیرسٹر سے گفتگو کو سند پکڑا