انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 299

۲۹۹ کرتے ہیں اور اس سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ صرف مکفر کے پیچھے نماز ناجائز ہے کیونکہ خواجہ صاحب شہادت دیتے ہیں کہ مولوی رحیم بخش مکفّر کے پیچھے حضرت مسیح موعود نے خود نماز پڑھی اس واقعہ سے تو صاف ثابت ہے کہ نماز غیراحمدیوں کے پیچھے نہ پڑھنے کا اصل باعث کچھ اورہی ہے کیونکہ ایک وہ زمانہ تھاجب باوجود کفر کے فتوی ٰکےغیراحمدیوں کے پیچھے نماز حضرت مسیح موعودؑبھی پڑھ لیا کرتے تھے اور اس بات کے ثابت ہونے سے یہ بات بھی حل ہو گئی کہ غیر ممالک میں بھی غیروں کے پیچھے نماز جائز نہیں کیونکہ جو لوگ غیراحمدیوں کے پیچھے غیر ممالک میں نماز پڑھنا جائز بتاتے ہیں وہ اس کی وجہ یہی بتاتے ہیں کہ کافر کہنے والے تو ہندوستان کے لوگ ہیں غیر ممالک کے لوگوں کا کیا قصور ہے کہ ان کے پیچھے نماز نہ پڑھی جائے لیکن یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ نماز سے روکنے کا اصل باعث یہ تھاگو غیراحمدیوں کو ان کے اپنے مسلمات کے رو سے بھی ملزم کرنے کے لئے یہ بھی پیش کیا جاتا رہا ہو لیکن اصل باعث کچھ اور ہی تھا خواجہ صاحب فرماتے ہیں کہ اصل باعث مسجدوں کے چھوڑنے کا مسئلہ کفر نہ تھا بلکہ اصل باعث خلل امن تھا۔احمدی جماعت تھوڑی تھی مخالف زیادہ تھے اور لڑائی جھگڑوں میں ضمانتوں تک نوبت پہنچ جاتی تھی اس لئے حضرت (صاحب) نے مساجد سے روک دیا یہ جواب بہت معقول ہو تااگر اس سے مسجدوں سے ممانعت کا فتوی ٰنکالا جاتا لیکن حضرت مسیح موعودؑ تو غیر احمدیوں کے پیچھے نماز پڑھنے سے بھی روکتے ہیں ہمیں ایسافتویٰ تو کوئی نظر نہیں آتا جس میں آپ نے یہ حکم دیا ہو کہ احمدی غیراحمدیوں کی مساجد میں کبھی نہ گھسیں ہاں مساجد سے باہر جہاں فتنہ کا خوف نہ ہو ان کے پیچھے نماز پڑھ لیں تو کچھ حرج نہیں۔لیکن اس کے خلاف یہ حکم ہمیں ملتا ہے کہ غیروں کے پیچھے نماز نہ پڑھو حالانکہ اگر آپ کی بات درست ہے تو اصل حکم یوں چاہئے تھا کہ غیراحمدیوں کی مساجد میں مت گھسو لیکن یہ حکم ہمیں قطعی ممانعت کے رنگ میں کبھی نہیں ملاگو یہ حضرت صاحب کا ارشاد تھا کہ اگر دوسرے لوگ تمہیں نماز نہ پڑھنے دیں تو ان مساجد میں جانے کی کوئی ضرورت نہیں لیکن حکم اگر ملا تو یہ کہ غیر احمدیوں کے پیچھے خواہ وہ کسی رنگ کے ہوں نماز نہ پڑھو حالانکہ اگر فساد باعث تھا تو کیوں حضرت مسیح موعودؑنے یہ اجازت نہ دے دی کہ اگر اپنے گھر پر کسی غیر کے پیچھے نماز پڑھنے کا موقع مل جائے تو تم کو اجازت ہے کہ اس کے پیچھے نماز پڑھ لیا کرو کیونکہ اپنے گھر پر ایک غیر احمدی دوست کے پیچھے نماز پڑھنے میں کسی قسم کے فساد کا خطرہ نہیں ہو سکتا تھا مگر حضرت مسیح موعودؑنے کوئی استثناء بیان نہیں فرمایا۔پھر غیر ممالک میں جہاں لوگوں کو اطلاع نہ ہو کہ یہ نماز پڑھنے والا کون ہے۔ایسی جگہ بھی غیروں کے پیچھے نماز