انوارالعلوم (جلد 2) — Page 193
۱۹۳ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم بقیہ تقریر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی (جو ۲۷دسمبر ۱۹۱۴ء کو سالانہ جلسہ پر بعد از نماز ظہرو عصر ہوئی) أشهدان لا اله الا الله وحده لا شريك له واشهد ان محمدا عبده ورسوله أما بعد فاعوذ بالله من الشیطن الرجیم بسم الله الرحمن الرحيم الحمد للہ رب العلمين الرحمن الرحيم مالک يوم الدين اياك نعبد و ایاك نستعين اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين أنعمت عليهم غیر المغضوب عليهم ولا الضالین۔آمین۔اللہ تعالیٰ کا کیاہی احسان ہے مسلمانوں پر اور کیاہی فضل ہے اپنے بندوں پر کہ ایک مسلمان دنیامیں کسی کے آگے کسی معاملہ میں شرمندہ نہیں ہو سکتا۔دنیا میں ناجائز تعصب، ضد اور ہٹ ایسی چیزیں ہیں جو کہ بہت بری ناپسندیدہ اور مکروہ ہیں مگر مسلمان کو اللہ تعالی ٰنے ایسے بلند مرتبہ پر کھڑاکیا ہے کہ دنیا کا اور کوئی انسان اس منصب تک نہیں پہنچ سکتا۔میں مضمون تو اور بیان کرنے لگا تھا۔لیکن سورہ فاتحہ کے پڑھنے سے ایک بات یاد آگئی ہے وہ بیان کئے دیتا ہوں۔اور وہ یہ کہ انسان کسی بات کے متعلق فیصلہ کرنے میں بہت ٹھوکریں کھاتا ہے کیونکہ اس کی عقل محدود ہوتی ہے دیکھوایک وہ زمانہ تھا جبکہ خیال کیا جا تا تھا کہ آسمان مختلف دھاتوں کے بنے ہوئے ہیں۔پھر فلسفیوں نے کہا کہ نہیں آسمان منتہائے نظر ہے اور کوئی مادی چیز نہیں اور خبر نہیں کہ کل کیا اور پرسوں کیا ثابت ہو۔یہی حال تمام علوم کا ہے۔جو علوم آج سے سو سال پہلے تھے وہ آج نہیں ہیں اورہی ہیں۔پہلے کہاجاتا تھا کہ ایک سورج ہے اور باقی سارے ستارے اس سے متعلق ہیں لیکن آج کل معلوم ہواہےکہ کئی ستارے ایسے ہیں جو اتنی دور اور اتنے بڑے ہیں کہ اب جا کر ان کی روشنی ہم تک پہنچی ہےاور وہ سورج سے کئی گنا بڑے ہیں۔کسی زمانہ میں خیال کیا جا تا تھا اور یہ مشہور مقولہ ہے کہ قطب نما