انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 163

۱۶۳ خلیفہ کا اس سے پتہ چلتا ہے اس لئے آپ کے بعد کوئی خلیفہ بھی نہیں ہوا۔پس لوگ حضرت مسیحؑ کا خلیفہ انجیل سے کس طرح پا لیں جب کہ وہ اس کی صرف ۳۳ سال کی زندگی کے حالات ہیں۔حالانکہ حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیحؑ نے ایک سَو بیس سال کی عمر پائی ہے۔تو جب ۳۳ سال انجیلی زندگی کے بعد بھی حضرت مسیحؑ زندہ رہے ہیںتو ان کے خلفاء کا پتہ انجیل سے کس طرح لگے۔اگر کوئی کہے کہ حضرت مسیحؑ کے ایک سَو بیس برس کی عمر میں مرنے کے بعد بھی تو کسی خلیفہ کا پتہ نہیں لگتا۔اس کے لئے ہم کہتے ہیں کہ اگر تم حضرت مسیحؑ کی تیس سالہ زندگی کے بعد کے حالات ہمیں لا دو تو ہم ان کے خلیفے بھی نکال دیں گے اور جب حضرت مسیحؑ کی پچھلی زندگی کی کوئی تاریخ ہی موجود نہیں ہے تو ان کے خلفاء کے متعلق بحث کرنا ہی فضول اور لغو ہے۔اور اگر یہ کہا جائے کہ صلیب پر لٹکنا اور مُلک سے چلا جانا بھی موت ہی ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی الوصیت میں لکھا ہے کہ ’’ایسا ہی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ معاملہ ہوا‘‘ یعنی ان کے بعد بھی خلیفہ ہوا اس لئے کوئی خلیفہ دکھاؤ۔اچھا ہم اس کو مان لیتے ہیں لیکن اس اعتراض سے یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے انجیل پر بھی غور نہیں کیا۔انجیل میں بعینہٖ وہی نقشہ درج ہے جو الوصیت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کھینچا ہے اور جس طرح الوصیت میں خلیفہ اور انجمن کا ذکر ہے اسی طرح انجیل میں ہے۔حضرت مسیحؑ جب صلیب کے بعد اپنے حواریوں کے پاس آئے اور کشمیر جانے کا ارادہ کیا تو اس کا ذکر یوحنا باب ۲۱ میں اس طرح پر ہے کہ :۔’’اور جب کھانا کھا چکے تو یسوع نے شمعون پطرس سے کہا کہ اے شمعون یوحنا کے بیٹے! کیا تو ان سے زیادہ مجھ سے محبت رکھتا ہے؟ اس نے اس (مسیح) سے کہا۔ہاں خداوند تو تو جانتا ہی ہے کہ میں تجھے عزیز رکھتا ہوں۔اس نے اس سے کہا۔تو میرے برے چَرا۔اس نے دوبارہ اس سے پھر کہا کہ اے شمعون یوحنا کے بیٹے! کیا توُمجھ سے محبت رکھتا ہے؟ وہ بولا ہاں۔خداوند تُو تو جانتا ہی ہے کہ میں تجھ کو عزیز رکھتا ہوں۔اس نے اس سے کہا۔تو میری بھیڑوں کی گلہ بانی کر۔اس نے تیسری بار اس سے کہا کہ اے شمعون یوحنا کے بیٹے! کیا تُو مجھے عزیز رکھتا ہے؟ چونکہ اس نے تیسری بار اس سے کہا کیا تُو مجھے عزیز رکھتا ہے؟ اس سبب سے پطرس نے دلگیر ہو کر اس سے کہا اے خداوند! تُو تو سب کچھ جانتا ہے تجھے معلوم ہی ہے کہ میں تجھے عزیز رکھتا ہوں۔یسوع نے اس سے کہا کہ تُو میری بھیڑیں چَرا‘‘ ۵؎ تو حضرت مسیحؑ نے اپنے بعد پطرس کو خلیفہ مقرر کیا۔ایک جگہ لوقا باب ۹ میں اس طرح حضرت مسیحؑ کے متعلق لکھا ہے۔’’پھر اس نے ان بارہ (حواریوں) کو بُلا کر انہیں سب بَد روحوں پر اور بیماریوں کو دور کرنے کے