انوارالعلوم (جلد 2) — Page 164
۱۶۴ لئے قدرت اور اختیار بخشا اور انہیں خدا کی بادشاہت کی منادی کرنے اور بیماروں کو اچھا کرنے کے لئے بھیجا‘‘۔۶؎ ’’پس وہ روانہ ہو کر گاؤں گاؤں خوشخبری سناتے اور ہر جگہ شفا دیتے پھرتے‘‘۔۷ان آیات سے ثابت ہے کہ حضرت مسیحؑ نے اپنے حواریوں کے سپرد تبلیغ کا کام کیا ہے لیکن اُنہوں نے اپنی جماعت کو کسی جماعت کے سپرد نہیں کیا بلکہ صرف پطرس کو ہی کہا ہے کہ ’’تو میرے برے چَرا‘‘ ’’تو میری بھیڑوں کی گلہ بانی کر‘‘ ’’تو میری بھیڑیں چَرا‘‘ ہاں اپنے سلسلہ میں داخل کرنے کا حکم دیتے وقت سارے حواریوں کو ’’خدا کی بادشاہت کی منادی کرنے اور بیماروں کو اچھا کرنے کیلئے بھیجا‘‘ ہے اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الوصیت میں تحریر فرمایا ہے اور جہاں آپ نے خلیفہ کا ذکر کیا ہے وہاں تو یہ لکھا ہے۔’’یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے کہ اُس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اِس سنت کو وہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے اور اُن کو غلبہ دیتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیْ(المجادلہ۲۲) اور غلبہ سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ رسولوں اور نبیوں کا یہ منشاء ہوتا ہے کہ خدا کی حجت زمین پر پوری ہو جائے اور اُس کا مقابلہ کوئی نہ کر سکے اِسی طرح خدا تعالیٰ قوی نشانوں کے ساتھ اُن کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اُس کی تخم ریزی اُنہیں کے ہاتھ سے کر دیتا ہے لیکن اُس کی پوری تکمیل اُن کے ہاتھ سے نہیں کرتا بلکہ ایسے وقت میں اُن کو وفات دے کر جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے مخالفوں کو ہنسی اور ٹھٹھے اور طعن اور تشنیع کا موقع دے دیتا ہے اور جب وہ ہنسی ٹھٹھا کر چکتے ہیں تو پھر ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے اور ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن کے ذریعہ سے وہ مقاصد جو کسی قدر ناتمام رہ گئے تھے اپنے کمال کو پہنچتے ہیں۔غرض دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے (۱) اوّل خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے۔(۲) دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آ جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردّد میں پڑ جاتے ہیں اور اُن کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کئی بدقسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کر لیتے ہیں تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبردست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے وقت میں ہوا جب کہ