انوارالعلوم (جلد 2) — Page 94
۹۴ اسلام نے مسلمانوں کو اس طرف متوجہ کیا ہے۔اسلام اس عقیدہ کا سخت دشمن ہے کہ دولت مند خد اکی بادشاہت میں نہیں داخل ہو سکتے اوریہ کہ اونٹ کا سوئی کے ناکہ سے گزرنا بہت آسان ہے اس سے کہ کوئی دولتمند خدا کی بادشاہت میں داخل ہو بلکہ اسلام تو غریب وامیر کامذہب ہے اور کسی خاص فرقہ سے متعلق نہیں۔زکوٰة کے احکام بتارہے ہیں کہ اسلام روپے جمع کرنے سے بھی منع نہیں کرتا اور اپنی دولت لٹا کر اس میں داخل ہونے کا طالب نہیں اور یہ نہیں کہتا کہ تو کل کی مگر آج نہ کربلکہ قرآن کریم کا تو حکم ہے کہ ولتنظر نفس ما قدمت لغد (الحشر: ۱۹)انسان کو کل کی فکر آج کرنی چاہئے اور دیکھتے رہنا چاہئے کہ میں نے کل کے لئے آج کیا سامان کئے ہیں۔ہاں اسلام ہر قسم کے وہموں اور دور اَز کار خیالوں سے بھی روکتا ہے کیونکہ وہ انسانی ترقیات کے راستے میں روک ہوتے ہیں اور قبل از وقت روح انسانی کو گھن ہو کر لگ جاتے ہیں۔غرض کہ اسلام دنیاوی ترقیات سے روکتا نہیں بلکہ ان کی طرف رغبت دلاتا ہے مگر باوجو داس کے یہ کہنا ایک ظلم عظیم ہو گا کہ اسلام کی غرض دنیاوی ترقیات تھی کیونکہ یہ مقصد تو بغیر کسی مذہب کے بھی حاصل ہے اگر اسلام نہ آتا تو کیا لوگ دنیا کی طرف متوجہ نہ ہوتے بلکہ قرآن کریم سے تومعلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کی تمام تر توجہات دنیا کے حصول کی طرف دی گئی ہوئی تھیں جیسا کہ فرمایا الذين ضل سعيهم في الحياة الدنيا (الکھف : ۱۰۵) یا فرمایا ہے کلا بل تحبون العا جلة وتذرون الأخرة ( القيامہ: ۲۱،۲۲) یا فرمایا ہے کہ بل تؤثرون الحيوة الدنيا والأخرة ځير وابقی۔(الا على : ۱۷-۱۸) اور یہ بات تو ظاہر ہے کہ انسان عام طور پر بہیمی صفات کی طرف خود بخودما ئل ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان میں جو بہیمی خواہشات ہیں وہ اپنے اندر ایک نہایت عاجلانہ لطف رکھتی ہیں اوریہی وجہ ہے کہ لوگ جسمانی آرام کی خاطربہت سا وقت خرچ کر دیتے ہیں اور بہت ہوتے ہیں جوکھانے پینے یا پہننے کے آرام کی فکر میں ہی اپنی ساری عمر صرف کر دیتے ہیں اور ان کی رات دن کی محنتیں اور کوششیں صرف ان کے بہیمی جذبات کو پورا کرنے کے لئے ہوتی ہیں اور چونکہ ان جذبات کا پورا کرنا زیادہ تر دنیا کے اموال و امتعہ کے حصول پر مبنی ہے اس لئے لوگ دنیا کی طرف بہت متوجہ ہوتے ہیں اور جسقدرحق سے دور ہوں اور معرفت الہٰی سے خالی ہوں اسی قدر دنیا کے کمانے میں منہمک اور مشغول ہوتے ہیں کیونکہ اس کے کمانے میں ان کے بہیمانہ جذبات کے پورا۔۔