انوارالعلوم (جلد 2) — Page 86
۸۶ قیصرو کسریٰ کے خزانوں کی کنجیاں میرے ہاتھوں میں آئیں گی دنیا کے ہر کونہ میں اسلام پھیل جائے گا اور دنیا کی کوئی طاقت اسلام کو روک نہ سکے گی جو اسلام کی مخالفت کرے گا اور اس کے ترقی کرنے میں روک ہو گا وہ بیخ وبن سے اکھاڑ کر پھینک دیا جائے گا قرآن کریم میں بھی متعدد آیات میں یہ ذکر ہے جیسا کہ فرمایا لاغلبن انا و رسلی (المجادلہ : ۲۲)۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور تھوڑی ہی مدت میں اسلام دنیا کے کونے کونے میں پھیل گیا اور باوجودسب مذاہب اور سب اقوام کی متحدہ کوشش کے اسلام کی ترقی میں کوئی فرق نہ آیا اور اس نے ہرمذ ہب کو اپنے فاتحانہ بازوسے دبالیا۔زمین پر لیٹنے والے اور خاک پر سونے والے سات سات وقت كافاقہ کرنے والے قرآن کریم کی اتباع اور آنحضرت ﷺکی صحبت کے طفیل کہاں سے کہاں پہنچ گئے کسی نے شاہانہ اقتدار حاصل کیا کوئی کسی ملک کا گورنر ہو گیا تو کوئی فتحمند افواج کا کمانڈر مقرر ہوا کی ترقی کی انسانی دماغ کی کوششوں کا نتیجہ نہیں معلوم ہوتی بلکہ اسے بنظر غور دیکھنے والا صاف معلوم کرتاہے کہ اس ترقی کا باعث کوئی آسمانی تائید اور نصرت تھی نہ زمینی تدابیر۔دنیا نے چاہا کہ اسلام کو بڑھنے نہ دے مگرخداتعالی ٰنے چاہا کہ اسے بڑھائے پس مكروا و مکر الله والله خير اللمٰكرين (ال عمران :۵۵) لوگوں نے ہزاروں تدابیر کیں کہ کسی طرح آنحضرت ﷺ کی زندگی کا خاتمہ کر کے اس خارق عادت ترقی کرنے والے مذہب کو اکھاڑ پھینکیں لیکن جعل كلمة الذين كفروا السفلی و كلمة اللہ ھي العليا ( التوبہ:۴۰) لوگوں کا لغض و کینہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ مذہب کے خلاف کیا کر سکتا تھا؟ اسلام ایک پتھرتھاکہ جس پر گرا اسے توڑ دیا اور جو اس پر گر اٹوٹ گیا۔اسلام کے خادم دنیا کے مخدوم ہوگئے اسلام کے جاں نثار دنیا کے محبوب ہو گئے اسلام کے شیداؤں نے لاکھوں کو اپناو الہ و شیدا بنالیا۔کسی انسان نے اسلام کا نام لے کر ناکامی اور نامرادی کا پھل نہ چکھا بلکہ جس نے اس کے دامن سے وابستگی کی کامیابی اور کامگاری ہی کا منہ دیکھا۔خسران و تاب سے محفوظ ہو گیا اسلام نے ویران گھرانوں کو آباد کیاوحشیوں کو دنیا کی مہذب ترین قوموں پر فضیلت دی۔اسلام ایک تریاق تھا کہ جس نےچکھا شکوک و شبہات اور وساوس کی امراض سے محفوظ ہو گیا۔سنگ پارس تھا کہ جو اس سے چھواسونابن گیا نہیں بلکہ خود کیمیابن گیا جسے چُھو کرد ہ دل بھی جو لوہے کی طرح سخت تھے سونا بن گئے۔غرض کہ اسلام سے کسی کو نقصان نہیں پہنچا بلکہ اسلام ہر گھر کے لئے شادابی اور شادکامی کا موجب ہوا اور