انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 87

۸۷ کوئی نہ تھا جو کہتا کہ میں نے اسلام کے لئے کچھ چھوڑا اور گھاٹے میں رہا۔قوموں نے اس سےبرکت پائی اور ملکوں نے اس سے فضیلت حاصل کی۔اسلام سے پہلے سینکڑوں نہیں ہزاروں مذہب موجود تھے لیکن اس کامل مذہب کے ظاہر ہوتےمذاہب باطلہ کا طلسم ٹوٹ گیا اور سب مذاہب اس کے سامنے اس طرح ماند پڑ گئے جس طرح سورج کے سامنے ستاره یا برقی لیمپ کے سامنے پرانا دیسی چراغ۔نہ تووہ مذاہب اسلام کا مقابلہ کرسکے جو فلسفہ اور حکمت کے زور سے دنیا پر فتح پارہے تھے اور اسلام کی سادگی ان پر غالب آگئی اور نہ وه مذاہب کچھ کر سکے جو باریک استعاروں اور لطیف تشبیہوں کی مدد سے لوگوں کے دلوں کومسخر کررہے تھے نہ وہ مذاہب کچھ کر سکے جو زبردست سلطنتوں کی مدد سے دنیا میں ترقی کر رہے تھے نہ ان مذاہب کوکو ئی کامیابی ہو سکی جو عیش و عشرت کے دروازے کھول کر لوگوں کو اباحت کی تعلیم دے رہے تھے ہر ایک کا لالچ ہر ایک نمائش ہر ایک آزادی ہرایک طمع سازی اسلام کے سیدھے سادے مذہب کے مقابلہ میں شکست پاگئی اور اسلام دنیا پر غالب آگیا ظاہری اور باطنی دونوں طریق سےاسلام فاتح ہؤاغیرمذاہب کی حکومتوں کی بجائے اسلامی حکومتیں ہو گئیں اور غیر مذاہب کو چھوڑ کرکروڑوں آدمی اسلام سے بغل گیر ہوئے۔جو لوگ مسلمانوں کو دیکھتے اسلام کی صداقت کا اقرارکئے بغیر کوئی چارہ نہ پاتے۔حتیّٰ کہ اسلام کی ترقی کے آخری زمانہ میں بھی مسلمان بادشاہوں کو ہندو رؤساء نے لڑکیاں بیاہ دیں حالا نکہ سناتن دھرم مذہب کسی ہندو کو مسلمان سے شادی تو الگ اس سے چھونے تک کی بھی اجازت نہیں دیتا اس زمانہ میں دین کا وہ چرچا نہیں جو مغلوں کی سلطنت کے زمانہ میں تھا اوراس وقت ہندو بادشاہوں میں وہ طاقت نہیں جو اس وقت بھی اس وقت وہ قریبا ًآزادہی ہوتے تھے اوران کے اختیارات اسوقت کے راجاؤں سے بہت زیادہ تھے لیکن اب کوئی ہندو راجا جو اپنے مذہب کا پیرو ہو کسی یورپین کو لڑکی دینا بھی پسند نہ کرے مگر مغل بادشاہوں سے راجاؤں کا لڑکیاں بیاہ دینا اس بات کا روشن ثبوت ہے کہ مسلمان کا رعب ایک خاص رنگ رکھتا تھا اور ان کے اندر ایک خاص کشش تھی۔اکبر کی زندگی اس کابیّن ثبوت ہے۔مگراس کے مقابلہ میں آج اسلام کی کیا حالت ہے ملک پر ملک مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکلا جا رہا ہے نہیں بلکہ سب ملک وہ اپنے ہاتھوں سے دے چکے ہیں اور ایک ایک کر کے سب ممالک ان کے ہاتھوں سے چھینے جا چکے ہیں ملک اور قومیں تباہ ہوتی چلی آئی ہیں اور کوئی تاریخ سے واقف