انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 69

۶۹ بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم شکریہ اور اعلان ضروری اللہ تعالی ٰ کی عجیب در عجیب حکمت ہے کہ ابھی مشکل سے تین ماہ گزرے ہوں گے۔کہ حضرت خلیفۃ المسیح استاذی المکرم مولانا مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اول کے حکم کے ماتحت مجھے ایک اعلان شکر یہ لکھنا پڑا تھا۔اور آج پھر ایک اعلان شکر یہ لکھنے کے لئے خدا تعالی ٰنے مجھے موقعہ دیا ہے۔اس پہلے اعلان کا سبب یہ تھا۔کہ ۱۹۱۲ء کی آخری سہ ماہی میں جماعت میں کچھ آثار تفرقہ تھے۔اوربعض گمنام لوگوں نےاظہار حق نامی ٹریکٹ شائع کر کے جماعت کو خلیفہ کے خلاف بھڑکانا چاہا تھا۔لیکن اللہ تعالی کے فضل نے حضرت استاذی المکرم کی دستگیری فرمائی۔اور بجائے جماعت میں تفرقہ ہونے کے جماعت آگے سے بھی زیادہ مضبوط ہو گئی اور اس کا اخلاص اور بھی ترقی کر گیا۔چنانچہ پچھلے سالانہ جلسہ نے یہ بات ثابت کر دی کہ خدا تعالی ٰکے کام کو کوئی نہیں روک سکتا۔اس تائید ایزدی کو دیکھ کر حضرت مرحوم و مغفور نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کی طرف سے ایک اعلان شکریہ شائع کر دوں۔و اما بنعمة ربک فحدث(الضحیٰ۱۲) کے حکم کی تعمیل ہو جائے اس اعلان کے لکھتے وقت میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔کہ وہی اظہار حق و الا فتنہ پھر بھی کبھی اٹھے گا۔اور اس دفعہ گمنام نہیں بلکہ شہرۂ ِآفاق نام ان خیالات کی تائید کرنے والے ہوں گے۔اور یہ کہ دوباره یہ فتنہ پہلے سے ہزاروں در جہ بڑھ کر اپنا اثر دکھائے گا۔مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت پورا ہو ئے بغیر نہیں رہتی۔اور وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہو تا۔فتنہ اٹھا۔اور پورے زور سے اٹھا۔حتی ّٰ کہ کمزور طبائع سلسلہ حقّہ کی سچائی میں بھی متردد ہوگئیں۔اور ہمارے سلسلہ کے دشمنوں نے خیال نہیں بلکہ یقین کرلیا کہ اب یہ سلسلہ تباه او ر برباد (نعوذ باللہ من ذلک) ہو جائے گا۔نور الدین کی آنکھوں کا بندہ ہونا تھا کہ نور کی جگہ ظلمت نے لے لی اور احمدی جماعت کے