انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 52

۵۲ خیال ہے کہ ایک مدرسہ کافی نہیں ہے جو یہاں کھولا ہوا ہے اس مرکزی سکول کے علاوہ ضرورت ہے کہچ مختلف مقامات پر مدرسے کھولے جائیں زمیندار اس مدرسہ میں لڑکے کہاں بھیج سکتے ہیں۔زمینداروں کی تعلیم بھی تو مجھ پر فرض ہے پس میری یہ رائے ہے کہ جہاں جہاں بڑی جماعت ہے وہاں سرِدست پرائمری سکول کھولے جائیں ایسے مدارس یہاں کے مرکزی سکول کے ماتحت ہوں گے۔ایساہونا چاہیے کہ جماعت کا کوئی فرد عورت ہو یا مرد باقی نہ رہے جو لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو۔صحابہؓ نے تعلیم کے لئے بڑی بڑی کوششیں کی ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض دفعہ جنگ کے قیدیوں کا فدیۂ آزادی یہ مقرر فرمایا ہے کہ وہ مسلمان بچوں کو تعلیم دیں۔میں جب دیکھتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کیا فضل لے کر آئے تھے تو جوشِ محبت سے روح بھر جاتی ہے۔آپؐ نے کوئی بات نہیں چھوڑی ہر معاملہ میں ہماری راہنمائی کی ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفۃ المسیح نے بھی اسی نقش قدم پر چل کر ہر ایسے امر کی طرف توجہ دلائی ہے جو کسی بھی پہلو سے مفید ہو سکتاہے۔غرض عام تعلیم کی ترقی کے لئے سردست پرائمری سکول کھولے جائیں۔ان تمام مدارس میں قرآن مجید پڑھایا جائے اور عملی دین سکھایا جائے ، نماز کی پابندی کرائی جائے مؤمن کسی معاملہ میں پیچھے نہیں رہتا۔پس تعلیمِ عامہ کے معاملہ میں ہمیں جماعت کو پیچھے نہیں رکھنا چاہیے اگر اس مقصد کے ماتحت پرائمری سکول کھولے جائیں گے تو گورنمنٹ سے بھی مدد مل سکتی ہے۔جماعت کی دُنیوی ترقیتعلیم کے سوال کے ساتھ ہی یہ بھی قابلِ غور امر ہے کہ جماعت کی دُنیوی ترقی ہو۔ان کو فقر اور سوال سے بچایا جائے اور واعظین، تبلیغ اور تعلیم شرائع کے لئے جائیں۔ان کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ وہ جماعت کی مادی ترقی کابھی خیال رکھیں اور یہاں رپورٹ کرتے رہیں کہ احمدی سُست تو نہیں۔اگر کسی جگہ کوئی شخص سست پایا جائے تو اُس کو کاروبار کی طرف متوجہ کیا جائے۔مختلف حرفتوں اور صنعتوں کی طرف انہیں متوجہ کیا جائے اِس قسم کی باقاعدہ اطلاعیں جب ملتی رہیں گی تو جماعت کی اصلاحِ حال کی کوشش اور تدبیر ہو سکے گی۔عملی ضرورت ہےجب میں نے ان باتوں پر غور کیا تو میں نے دیکھا کہ یہ بہت بڑا میدان ہے۔میں نے غور کیا تو ڈر گیا کہ باتیں تو بہت کیں اگر عمل