انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 53

۵۳ سُستی ہو تو پھر کیا ہوگا اور دوسری طرف خیال آیا کہ اگر چستی ہو تو پھر اور قسم کی مشکلات ہیں۔حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ کی خلافت پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ حضرت عمرؓ چل پھر کر خوب واقفیت پیدا کر لیتے تھے۔جو لوگ کہتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ کا قصور تھا وہ جھوٹے ہیں۔حضرت عثمانؓ بہت بوڑھے تھے اور چل پھر کر وہ کام نہیں کر سکتے تھے جو حضرت عمرؓ کر لیتے تھے۔پھر میں نے خیال کیا کہ میرا اپنا تو کچھ بھی نہیں جس خدا نے یہ امور اصلاحِ جماعت کے لئے میرے دل میں ڈالے ہیں وہی مجھے توفیق بھی دے دے گا۔مجھے دے گا تو میرے ساتھ والوں کو بھی دے گا۔غرض دُنیوی ترقی کے لئے مدارس قائم کئے جائیں اور واعظین اپنے دَوروں میں اِس امر کو خصوصیت سے مدنظر رکھیں کہ جماعتیں بڑھ رہی ہیںیا گھٹ رہی ہیں؟ اور تعلیمی اور دُنیوی حالت میں کیا ترقی ہو رہی ہے؟ عملی پابندیوں میں جماعت کی کیسی حالت ہے؟ باہم اخوت اور محبت کے لحاظ سے وہ کس قدر ترقی کر رہے ہیں؟ ان میں باہم نزاعیں اور جھگڑے تو نہیں؟ یہ تمام امور ہیں جن پر واعظوں کو نظر رکھنی ہوگی اور اس کے متعلق مفصل رپورٹیں میرے پاس آتی رہیں۔کالج کی ضرورت جب مختلف مقامات پر مدرسے کھولے جائیں گے تو اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ہمارا اپنا ایک کالج ہو۔حضرت خلیفۃ المسیح کی بھی یہ خواہش تھی۔کالج ہی کے دنوں میں کیرکٹر بنتا ہے۔سکول لائف میں تو چال چلن کا ایک خاکہ کھینچا جاتا ہے اس پر دوبارہ سیاہی کالج لائف ہی میں ہوتی ہے پس ضرورت ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کی زندگیوں کو مفید اور مؤثر بنانے کے لئے اپنا ایک کالج بنائیں۔پس تم اس بات کو مدنظر رکھو میں بھی غور کر رہا ہوں۔یہ خلیفہ کے کام ہیں جن کو میں نے مختصراً بیان کیا ہے ان کو کھول کر دیکھو اور ان کے مختلف حصوں پر غور کرو تو معلوم ہو جائے گا کہ انجمن کی کیا حقیقت ہے اور خلیفہ کی کیا۔میں یہ بڑے زور سے کہتا ہوں کہ نہ کوئی انجمن اس قسم کی ہے اور نہ ایسا دعویٰ کر سکتی ہے نہ ہو سکتی ہے نہ خدا نے کبھی کوئی انجمن بھیجی۔انجمن اور خلیفہ کی بحث بعض کہتے ہیں کہ خلیفہ نے انجمن کا حق غضب کر لیا پھر کہتے ہیں کہ یہ لوگ شیعہ ہیں۔میں جب ان باتوں کو سنتا ہوں تو مجھے افسوس آتا ہے کہ ان لوگوں کو کیا ہوگیا۔کہتے ہیں بیٹے کو خلافت کیوں مل گئی؟ میں حیران ہوں کہ کیا کسی ولی یا نبی کا بیٹا ہونا ایسا ناقابلِ عفو جُرم ہے کہ اس کو کوئی حصہ خدا کے فضل سے نہ ملے اور کوئی عہدہ وہ نہ پائے؟ اگر یہ درست ہے تو پھر نعوْذُباللہِ کسی ولی یا نبی کا بیٹا ہونا تو ایک لعنت