انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 611 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 611

انوار العلوم جلد ۲ 411 حقيقة النبوة (حصہ اول ) تو جائے غیرت تھی لیکن جبکہ وارث نبوہ آنحضرت ا کاری ایک روحانی فرزند ہوا تو غیرت کا کیا سوال؟ ا اس حوالہ سے صاف ظاہر ہے کہ امتی نبی کا وجود ختم نبوت کی شان کو بلند کرتا ہے مرزا محمود احمد اس عبارت سے ہر ایک صاحب فراست معلوم کر سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود جس نبوت کو بعد آنحضرت ا بند فرماتے ہیں وہ در حقیقت شریعت لانے والی نبوت ہے یا جس نبوۃ سے آنحضرت ﷺ کی پیروی معطل ہو نہ کہ نبوت بند ہے۔ مرزا محمود احمد ۴۳ اس عبارت پر غور کر کیسا صاف ہے کہ آپ نے جس نبوت سے انکار کیا ہے وہ ایسی نبوت ہے جس کا ہونا قرآن کریم میں منع ہے نہ یہ کہ ہر ایک نبوت سے انکار کیا ہے۔ , اس عبارت سے ظاہر ہے کہ آپ صرف اس نبوت سے انکار کرتے ہیں جس میں آپ آنحضرت ﷺ کی امت سے نکل جائیں یہ نہیں فرماتے کہ میں نبی ہوں ہی نہیں۔ یہ عبارت نہایت صاف طور پر ایک نبی اور ایک مامور میں فرق کر دکھاتی ہے کیونکہ اس میں بتایا گیا ہے کہ گو اس امت کے بعض افراد علم ہیں لیکن نہیں وہ ہوتا ہے جس پر بکثرت امور غیبیہ کا اظہار ہو اور حضرت مسیح موعود اس بات کے مدعی ہیں کہ مجھ پر امور غیبیہ کثرت سے ظاہر کئے جاتے ہیں پس آپ دوسرے نامور مسلموں میں شامل نہیں بلکہ نبیوں میں شامل ہیں۔ مرزا محمود احمد اس حوالہ میں بھی آپ نے نبوت کی شرائط کا اقرار کیا ہے۔ ۴۷۔ اس جگہ بھی صرف اس قسم کی نبوت سے انکار کیا ہے جو پہلے نبیوں کو براہ راست ملتی تھی نہ کہ نبوت سے بلکہ فرمایا ہے کہ یہ نبوت اتباع خاتم النبین سے ملتی ہے۔ اس عبارت سے بھی صاف ظاہر ہے کہ آپ کثرت مکالمہ کادعوی کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اس کا نام نبوت ہے ہاں جاہل لوگ اسے نبوت خیال نہیں کرتے اور اس جگہ اور لفظ رکھنا چاہتے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ آپ نبی ہونے سے انکار نہیں کرتے بلکہ مستقل نبی ہونے سے انکار کرتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے نبوت براہ راست نہیں ہائی بلکہ آنحضرت اللہ کے واسطہ سے پائی ہے۔ مرزا محمود احمد ۵۰ اس عبارت کا بھی مطلب ظاہر ہے کہ مستقل نہی جس نے براہ راست نبوت پائی ہو اب نہیں آسکتا اور نہ حضرت مسیح موعود کا ایسا دعوی تھا پس نبی کا نام جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو دیا تو یہ ایک اعزازی نام تھا۔ اور اس سے صرف یہ مراد تھی کہ درجہ نبوت کو پہنچ گئے ورنہ اس سے یہ مطلب نہ تھا کہ آپ نے براہ راست نبوت حاصل کی ہے یا یہ کہ آپ شریعت اسلام کے ناسخ ہیں اور اگر اس سے مراد یہ لی جائے کہ آپ نبی نہ تھے بلکہ یونہی نام رکھ دیا گیا تھا تو اس سے مشابہت بہ مسیح نہیں ثابت ہوتی کیونکہ ایک آدمی کو اگر شیر کہہ دیا جارے تو اس سے اسے شیر سے مشابہت تو پیدا نہیں ہو جاتی۔ بلکہ اس سے تو یہ مراد ہے کہ یہ شہر سے بہادری میں مشابہ ہے نہ یہ کہ شیر کہنے سے شیر کے مشابہ ہو گیا ہے اور اگر کوئی یہ کہے کہ اگر نبی بھی مان لو۔ پھر بھی مشابہت پیدا نہیں ہوتی کیونکہ حضرت مسیح نے براہ راست نبوت پائی تھی اور حضرت مسیح موعود نے بواسطہ آنحضرت ا تو اس کا جواب یہ ہے کہ جو شخص نبی ہو گیا اس کی دوسرے نبیوں سے مشابہت ہو گئی مشابہت کا اس سے کوئی تعلق نہیں کہ نبوت کس طریق سے ملی ہے۔ ایک کپڑا کو دوسرے کپڑا کے مشابہ کہیں اور اس کی شکل اور اس کی صفت کے لحاظ سے اس کی مشابہت درست ہو تو ایسا کہنا درست ہو گا یہ ضروری نہیں کہ اگر ایک مشین کا بنایا ہوا ہے تو دو سرا بھی مشین کا ہی بنایا گیا ہو ۔ خواہ ہاتھ سے بنایا گیا ہو۔ یا مشین سے ۔ جب شکل صورت صفت میں مشابہ ہے تو اسے مشابہ ہی کہیں گے اور یہ کبھی نہ ہو گا کہ ایک ململ کے تھان کا نام لکھے کا تھان رکھ دیں کہ تا دوسرے لٹھے کے تھانوں سے اس کی مشابہت ہو جائے مشابہت تو سبھی ہوگی کہ جب دونوں لٹھے کے تھان ہوں ہاں اس کی ضرورت نہیں کہ وہ دونوں بنائے بھی ایک ہی طرح ہوں بعینہ اسی طرح ایک شخص دوسرے سے نبوت کے معاملہ میں بھی مشابہ ہو گا جب اسے واقع میں نبی بنا دیا جائے نہ اس طرح کہ صرف اس کا نام نبی رکھ دیا جائے اور اگر واقع میں اسے نبی بنا دیا جائے تو دونوں ایک دوسرے کے مشابہ ہو جائیں گے اور یہ سوال نہ ہو گا کہ ان دونوں کو نبوت کس طریق سے ملی ہے نبوت خواہ بلا واسطہ ملے یا بالواسطہ اس سے کوئی حرج نہیں ہوتا مگر شاید کوئی شخص یہ کہے کہ یہ کہے کہ حضرت مسیح موعود نے تو اپنے آپ کو حضرت مسیح سے تمام شان میں افضل قرار دیا ہے پھر مشابہت کہاں رہی تو اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود صرف مسیح موعود نہ تھے بلکہ مہدی کا عظیم الشان ظهور ہونے کی وجہ سے رسول اللہ اللہ کا بھی بروز تھے۔ پس مسیحیت کے لحاظ سے آپ مسیح کے مشابہ تھے لیکن آنحضرت اللی کا بروز کامل ہونے کی وجہ سے اس سے افضل تھے اور مشابہت میں اس سے فرق نہیں آتا یہاں ایک اور شبہ بھی پیدا کیا جا سکتا ہے اور وہ یہ کہ آنحضرت ا تو علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل فرماتے ہیں اور اپنی امت کے علماء کو بنی اسرائیل سے مشابہ قرار دیتے ہیں اس لئے کیا پھر سب علماء نبی تھے اور انکوئی کہنا جائز ہے کیونکہ تم نے مشابہت کے معنے میں کئے ہیں سو اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو یہ