انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 586 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 586

انوار العلوم جلد ۲ ۵۸۶ حقيقة النبوة ( حصہ اول) گزشتہ سے میں نے نبوت کی ایک تعریف کی ہے اور پھر دکھایا ہے کہ حضرت مسیح موعود بھی اس تعریف سے متفق ہیں اور آپ نے صاف لکھ دیا ہے کہ نبی کے لئے یہ شرط نہیں کہ جدید شریعت لائے یا کسی دوسرے نبی کا متبع نہ ہو اور یہ بھی کہ نبی کے لئے بموجب قرآن کریم کثرت اطلاع بر امور غیبیہ شرط ہے اور یہ بات آر ہے اور یہ بات آپ میں پائی جاتی ہے پس ہے پس جبکہ نبی کی وہ تعریف جو قرآن کریم و لغت انبیائے گذشتہ کے عقائد کے اتفاق سے ثابت ہے حضرت مسیح موعود پر صادق آئی تو آپ ضرور نہیں ہوئے اور اگر اس نبوت کا نام محدثیت رکھو گے تو کل انبیاء کو محدث ہی قرار دینا پڑے گا کیونکہ جیسا کہ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے وہ سب بھی اس شرط کے پائے جانے کی وجہ سے نبی کہلائے ہیں جو حضرت مسیح موعود میں پائی جاتی تھی۔ چنانچہ فرماتے ہیں : وو یہ ضرور یاد رکھو کہ اس امت کے لئے وعدہ ہے کہ وہ ہر ایک ایسے انعام پائے گی جو پہلے نبی اور صدیق پاچکے پس منجملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیشگوئیاں ہیں جن کے رو سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے لیکن قرآن شریف بجز نبی و رسول ہونے کے دوسروں پر علوم غیب کا دروازہ بند کرتا ہے جیسا کہ آیت فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيبَةٍ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولِ (الجن : ۲۷) سے ظاہر ہے پس مصطفیٰ غیب پانے کے لئے نبی ہونا ضروری ہوا"۔ پھر جبکہ خود حضرت مسیح موعود نے ایک طرف تو یہ لکھا ہے کہ جہاں جہاں میں نے نبوت سے انکار کیا ہے شریعت جدیدہ لانے یا بلا واسطہ نبوت پانے سے انکار کیا ہے نہ نبوت سے اور دوسری طرف یہ لکھا ہے کہ نبی کے لئے شریعت لانا یا متبع نہ ہونا شرط نہیں تو پھر اس حوالہ سے اگر کوئی انکار ثابت بھی ہو گا تو صرف اس قدر کہ آپ کوئی جدید شریعت نہیں لائے اور نہ آپ بلا واسطہ نبی بنے اور اس کا انکار کیسے ہے؟ پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود نے اپنی آخری تقریر میں جو بمقام لاہور فرمائی۔ کچھ ایسے فقرات فرمائے تھے جن سے لوگوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ آپ نے نبوت سے انکار کر دیا ہے اور اخبار عام کے ۲۳ / مئی ۱۹۰۸ء کے پرچہ میں یہ بات شائع بھی ہو گئی۔ اس پر حضرت مسیح موعود نے اسی دن یعنی ۲۳ / مئی ۱۹۰۸ء کو ایک تردیدی اعلان اخبار عام کو بھیجا جس کا ایک فقرہ یہ ہے۔ اس جلسہ میں میں نے صرف یہ تقریر کی تھی کہ میں ہمیشہ اپنی تالیفات کے ذریعہ سے لوگوں کو اطلاع دیتا رہا ہوں۔ اور اب بھی ظاہر کرتا ہوں کہ یہ الزام جو میرے ذمہ لگایا جاتا ہے کہ گویا میں ایسی نبوت کا دعوی کرتا ہوں جس سے مجھے اسلام سے کچھ تعلق باقی نہیں رہتا۔ اور جس کے یہ معنی