انوارالعلوم (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 583 of 650

انوارالعلوم (جلد 2) — Page 583

انوار العلوم جلد ۲ ۵۸۳ حقيقة النبوة ( حصہ اول) اظہار ہو پس وہ نبی کہلائے یہی حال اس سلسلہ میں ہے۔ بھلا اگر ہم نبی نہ کہلائیں تو اس کے لئے اور کونسا امتیازی لفظ ہے جو دوسرے ملموں سے ممتاز کرے ۔ دیکھونا اور لوگوں کو بھی بعض اوقات سچے خواب آجاتے ہیں بلکہ بعض دفعہ کوئی کلمہ بھی زبان پر جاری ہو جاتا ہے جو بیچ نکل آتا ہے اس لئے تا ان پر حجت پوری ہو اور وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم کو یہ حواس نہیں دیئے گئے پس ہم سمجھ نہیں سکتے کہ یہ کس بات کا دعوی کرتے ہیں۔ آپ کو سمجھانا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ کسی قسم کی نبوت کے مدعی ہیں ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے۔ یہودیوں ، عیسائیوں ، ہندوؤں کے دین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اسی لئے کہ ان میں اب کوئی نبی نہیں ہوتا۔ اگر اسلام کا بھی یہی حال ہوتا تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھرے کس لئے اس کو دوسرے دینوں سے بڑھ کر کہتے ہیں آخر کوئی امتیاز بھی ہونا چاہئے صرف سچے خوابوں کا آنا تو کافی نہیں کہ یہ تو چوہڑے چماروں کو بھی آجاتے ہیں۔ مکالمہ مخاطبہ الہیہ ہونا چاہئے اور وہ بھی ایسا کہ جس میں پیشگوئیاں ہوں اور بلحاظ کمیت و کیفیت کے بڑھ چڑھ کر ہو ۔ ایک مصرع سے تو شاعر نہیں ہو سکتے ۔ اسی طرح معمولی ایک دو خوابوں یا الہاموں سے کوئی مدعی رسالت ہو تو وہ جھوٹا ہے ۔ ہم پر کئی سالوں سے وحی نازل ہو رہی ہے اور اللہ تعالی کے کئی نشان اس کے صدق کی گواہی دے چکے ہیں اسی لئے ہم نبی ہیں۔ امر حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفاء نہ رکھنا چاہئیے" ( بدر ۵ مارچ ۱۹۰۸ء جلدے نمبر ۹ صفحه (۲)