انوارالعلوم (جلد 2) — Page 580
۵۸۰ ضمیمہ نمبر ۲ حضرت اقدس مسیح موعودو مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کا سب سے آخری مکتوب اپنی نبوت کے متعلق مندرجہ اخبار عام ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء جس کی نقل اخبار بد ر نمبر۳۳ جلد ۷ مؤرخہ ۱۱ جون ۱۹۰۸ء میں بھی شائع ہو چکی ہے ۱۷ ماہ مئی ۱۹۰۸ء کو بمقام لاہور جلسہ دعوت میں جو تقریر حضرت اقدس نے فرمائی تھی اس تقریر کی بناء پر یہ غلط خبر پر چہ اخبار عام ۲۳ ع؎مئی ۱۹۰۸ء میں شائع ہوئی کہ آپ نے اس جلسہ دعوت میں دعوائے نبوت سے انکار کیا ہے۔تو اسی روز حضور نے ایڈیٹر اخبار مذکور کی طرف ایک خط لکھا جس میں اس غلط خبر کی تردید کی۔چنانچہ حضرت اقدس کا وہ خط یہ ہے:۔جناب ایڈیٹر صاحب پرچہ اخبار عام ۲۳؍ مئی ۱۹۰۸ء کے پہلے کالم کی دوسری سطر میں میری نسبت یہ خبر درج ہے کہ گویا مَیں نے جلسہ دعوت میں نبّوت سے انکار کیا- اس کے جواب میں واضح ہو کہ اس جلسہ میں مَیں نے صرف یہ تقریر کی تھی کہ مَیں ہمیشہ اپنی تالیفات کے ذریعہ سے لوگوں کو اطلاع دیتا رہا ہوں اور اب بھی ظاہر کرتا ہوں کہ یہ الزام جو میرے ذمہ لگایا جاتا ہے کہ گویا مَیں ایسی نبّوت کا دعویٰ کرتا ہوں جس سے مجھے اسلام سے کچھ تعلق باقی نہیں رہتا اور جس کے یہ معنی ہیں کہ مَیں مستقل طور پر اپنے تئیں ایسا نبی سمجھتا ہوں کہ قرآن شریف کی پیروی کی کچھ حاجت نہیں رکھتا اور اپنا علیحدہ کلمہ اور علیحدہ قبلہ بناتا ہوں اور شریعت اسلام کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہوں اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی اقتداء اور متابعت سے باہر جاتا ہوں، یہ الزام صحیح نہیں ہے بلکہ ایسا دعوٰے نبّوت کا میرے نزدیک کفر ہے- اور نہ آج سے بلکہ اپنی ہر ایک کتاب میں ہمیشہ مَیں یہی لکھتا آیا ہوں کہ اس قسم کی نبوت کا مجھے کوئی دعویٰ نہیں اور یہ سراسر میرے پر تہمت ہے- اور جس بناء پر مَیں اپنے تئیں نبی کہلاتا ہوں وہ صرف اس قدر ہے کہ مَیں خدا تعالے ٰ کی ہمکلامی سے مشرف ہوں اور وہ میرے ساتھ بکثرت بولتا اور کلام کرتا ہے اور میری باتوں کا جواب دیتا ہے اور بہت سی غیب کی باتیں میرے پر ظاہر کرتا اور آیندہ زمانوں کے وہ راز میرے پر کھولتا ہے کہ جب تک انسان کو اس کے ساتھ خصوصیّت کا قرب نہ ہو دوسرے پر وہ اسرار نہیں کھولتا اور انہیں